بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چینی دفاعی کمپنی نے جدید 40 ملی میٹر ٹیلی اسکوپک گولہ متعارف کرا دیا، جو ایک کلومیٹر کے فاصلے سے 130 ملی میٹر موٹی یکساں فولادی بکتر کو چھیدنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ گولہ چین کے متعدد مقامی ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔چین کی سرکاری دفاعی کمپنی چانگ آن وانگ جیانگ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر جاری ویڈیو میں اس جدید گولے کی خصوصیات پیش کیں۔ کمپنی کا تعلق چائنا ساؤتھ انڈسٹریز گروپ سے ہے۔
کمپنی کے مطابق اس گولے میں تین طرح کے حملے کی صلاحیتیں موجود ہیں، جن میں بکتر چھیدنے، دھماکے کے ساتھ ٹکڑے پھیلانے اور فضا میں مقررہ مقام پر پھٹنے کی صلاحیت شامل ہے۔ اس کے ذریعے بکتر بند اہداف، زمینی مورچوں اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔روایتی گولہ بارود کے برعکس، ٹیلی اسکوپک گولے میں پروجیکٹائل کو کارتوس کے خول کے اندر رکھا جاتا ہے، جس سے پورا گولہ ایک سلنڈر نما شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس ڈیزائن سے جنگی گاڑیوں کے محدود اندرونی حصے میں زیادہ گولہ بارود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔کمپنی کے مطابق اس گولے میں دو مرحلوں پر مشتمل اگنیشن نظام استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پروجیکٹائل کا ڈھانچہ الگ ہو کر اپنی مقررہ پوزیشن پر آتا ہے اور کارتوس کے خول میں بند چیمبر تشکیل پاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں گولہ فائر کیا جاتا ہے، جس سے اسے مطلوبہ رفتار اور ضرب لگانے کی صلاحیت ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ پر حوثی ملیشیا کا ڈرون حملہ، فضا میں تباہ کر دیا: سعودی اتحاد
گولے میں تیر نما ایروڈائنامک ڈیزائن اور سمت برقرار رکھنے کے لیے فِنز بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر اس کی درستگی تقریباً 0.5 میٹر ضرب 0.5 میٹر ہے۔چینی کمپنی کے مطابق اس گولے کا پہلا طریقہ بکتر چھیدنے کے لیے ہے، جس کے ذریعے ایک کلومیٹر سے 130 ملی میٹر موٹی فولادی پلیٹ کو چھیدنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔دوسری صلاحیت ہائی ایکسپلوسیو فریگمنٹیشن ہے، جس میں دھماکے کے نتیجے میں ٹکڑے مختلف سمتوں میں پھیلتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ طریقہ مورچوں اور بنکروں جیسے زمینی ٹھکانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
تیسری صلاحیت پروگرام ایبل ایئربرسٹ ہے، جس میں گولہ ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا میں پھٹتا ہے اور اس کے ٹکڑے ایک وسیع علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔ اس نظام کو کم بلندی پر پرواز کرنے والے چھوٹے ڈرونز اور دیگر فضائی اہداف کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔












