لاہور( پاک ترک نیوز) ایک ایسا مسافر طیارہ جو ایک ہی پرواز میں ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ طیارہ 4 ہزار 700 ناٹیکل میل تک پرواز کرسکتا ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ بیشتر ایئرلائنز اس کی پوری صلاحیت استعمال ہی نہیں کرتیں!آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا طیارے کی اصل رینج محض ایک تشہیری دعویٰ ہے؟ کیا ایندھن کی کمی رکاوٹ بنتی ہے، یا مسافروں کا وزن اس کی پرواز محدود کردیتا ہے؟
یہ ہے ایئربس اے 321 ایکس ایل آر، ایک ایسا تنگ جسم والا مسافر طیارہ جسے طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اس کی زیادہ سے زیادہ بتائی گئی رینج 4 ہزار 700 ناٹیکل میل، یعنی تقریباً 8 ہزار 700 کلومیٹر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سی ایئرلائنز اسے تقریباً 3 ہزار 400 سے 4 ہزار ناٹیکل میل کے روٹس پر استعمال کرتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ طیارہ اپنی صلاحیت پوری کرنے میں ناکام ہے۔ اصل معاملہ ہے وزن، ایندھن، موسم اور کاروباری منافع کا!ذرا تصور کریں! طیارے کے پاس وزن اٹھانے کی ایک مقررہ حد ہے۔ اگر زیادہ ایندھن لے کر دور تک جانا ہے تو مسافروں اور سامان کے وزن کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔اور اگر زیادہ سے زیادہ مسافروں کو بٹھانا ہے تو ایندھن اور سامان کی گنجائش پر اثر پڑ سکتا ہے۔اسی لیے ایئرلائنز کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ انہیں طویل فاصلے کی پرواز کو ترجیح دینی ہے یا زیادہ نشستوں کے ذریعے آمدنی بڑھانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ایئر ٹیکسی سروس کے لیے سخت شرائط
ایئربس نے اس طیارے میں اضافی ایندھن کے لیے مستقل ٹینک نصب کیا ہے، جبکہ اس کے ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن کی حد تقریباً 101 میٹرک ٹن ہے۔یعنی یہ صرف بڑے فیول ٹینک کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے طیارے کے وزن اور کارکردگی کے درمیان توازن کا کھیل ہے












