لاہور( پاک ترک نیوز) سوئٹزرلینڈ کی موسمیاتی ٹیکنالوجی کمپنی نے ایسا ڈرون متعارف کرا دیا ہے جو 34 ہزار 245 فٹ، یعنی 10 ہزار 438 میٹر کی بلندی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ڈرون فضا کی ان بالائی تہوں سے معلومات جمع کر سکتا ہے جہاں عام طور پر موسمی غباروں کے ذریعے مشاہدات کیے جاتے ہیں۔اسٹراٹو نامی ڈرون بلندی پر چڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نمی، فضائی دباؤ اور ہوا کی رفتار کی پیمائش کرتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا ڈرون ہے جو زمین کے قریب سے لے کر فضائی کرۂ بالا تک موسمی معلومات جمع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نانا پاٹیکر :فٹ پاتھ سے سپر اسٹار کا سفر
کمپنی کے مطابق ڈرون 80 میل فی گھنٹہ تک کی مسلسل تیز ہواؤں میں پرواز کر سکتا ہے۔ اس کے پنکھڑیوں پر برف جمنے سے روکنے کے لیے خودکار حرارتی نظام بھی نصب ہے، جو شدید سردی اور بلندی پر پرواز کے دوران اسے فعال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔روایتی موسمی غبارے ہوا کے رخ کے ساتھ بہتے ہیں اور عموماً دوبارہ استعمال کے لیے واپس نہیں لائے جاتے، جبکہ اسٹراٹو کو مخصوص مقام تک پہنچا کر معلومات جمع کرنے اور دوبارہ روانگی کے مقام پر واپس لانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔پرواز کے دوران یہ ڈرون بلندی، درجہ حرارت، ہوا کی کیفیت اور برف جمنے کے خدشات سے متعلق معلومات فوری طور پر اپنے نگران کو بھیجتا ہے۔ اس طرح دورانِ پرواز ڈرون اور موسمی حالات کی نگرانی ممکن ہوتی ہے۔کمپنی کے مطابق اس ڈرون سے حاصل ہونے والی معلومات موسم کی زیادہ باریک اور مقامی پیش گوئی میں مدد دے سکتی ہیں۔ اس سے فضائی سفر کے لیے موسمی حالات کا جائزہ لینے اور خلائی پروازوں کی تیاری کے دوران موسم کو سمجھنے میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اسٹراٹو اس کے پہلے سے موجود موسمیاتی ڈرون نظاموں کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس کے استعمال سے موسم کی پیش گوئی کی درستگی میں کتنی بہتری آئے گی۔












