ذرا تصور کریں! چاند کی ویران سطح، چاروں طرف موت جیسی خاموشی، زمین سے لاکھوں میل دور انسانوں کا نیا ٹھکانہ، اور چاند کی سطح کے نیچے چھپی ایسی پراسرار غاریں، جو خلائی مسافروں کو خطرناک شعاعوں اور خلائی پتھروں سے بچا سکتی ہیں! لیکن کہانی صرف غاروں تک محدود نہیں، ناسا کی نظریں چاند پر چھپی برف پر بھی جم گئی ہیں، جس سے مستقبل میں پانی، آکسیجن اور راکٹوں کے لیے ایندھن حاصل کرنے کی امید ہے۔ آخر چاند کے سینے میں کیا چھپا ہے؟ آئیے جانتے ہیں!
چاند اب صرف رات کے آسمان میں چمکتا ہوا ایک روشن گولا نہیں رہا، بلکہ انسان کی اگلی بڑی منزل بننے جا رہا ہے!امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر مستقل انسانی اڈے کی تیاری کے لیے تین اہم سائنسی تحقیقات منتخب کر لی ہیں، جن کا مقصد ہے چاند کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانا! پہلا مشن! چاند پر آنے والے زلزلوں، خلائی پتھروں کے ٹکراؤ اور خطرناک ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کرے گا۔ کیونکہ چاند پر نہ زمین جیسا فضائی غلاف ہے، نہ ہی ایسا قدرتی تحفظ جو ہر خطرے کو روک سکے!
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات آرڈیننس 1961 میں ترمیم کا فیصلہ، ترمیمی بل آج قومی اسمبلی میں پیش ہوگا
مستقبل میں اگر انسان نے چاند پر گھر بنانا ہے تو پہلے یہ جاننا ہوگا کہ وہاں کون سے خطرات اس کے منتظر ہیں! لیکن سب سے دلچسپ انکشاف دوسرے مشن میں چھپا ہے!ناسا چاند کے نیچے موجود ممکنہ قدرتی غاروں اور آتش فشانی سرنگوں کی تلاش کرے گا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ زیرِ زمین راستے خلائی مسافروں کے لیے قدرتی پناہ گاہیں بن سکتے ہیں۔سوچیے! جس چاند کو ہم برسوں سے بنجر اور ویران سمجھتے آئے، اس کی سطح کے نیچے ایسے مقامات موجود ہو سکتے ہیں جہاں انسان کو خطرناک شعاعوں، شدید درجہ حرارت اور خلائی ذرات سے تحفظ مل سکے!تاہم، ان غاروں کی موجودگی، وسعت اور انسانی رہائش کے لیے موزونیت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
ناسا چاند کے انتہائی سرد اور تاریک مقامات پر چھپی برف کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گا۔ اگر وہاں قابلِ استعمال برف مل گئی تو یہ مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے!کیونکہ پانی زمین سے چاند تک پہنچانا مہنگا اور مشکل کام ہے۔ چاند پر ہی پانی دستیاب ہو تو اسے پینے کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ مناسب طریقۂ کار سے آکسیجن اور ہائیڈروجن بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔یعنی آج جس چاند پر زندگی ناممکن دکھائی دیتی ہے، کل وہی انسان کے لیے ایک نئے ٹھکانے اور مستقبل کی خلائی مہمات کا مرکز بن سکتا ہے!












