واشنگٹن(پاک ترک نیوز ) دنیا میں شدید موسمی تبدیلیوں کا سبب بننے والا ال نینو کا غیر معمولی سلسلہ جاری ہے، جس پر امریکی خلائی ادارے ناسا کی کڑی نظر ہے۔ سمندری درجہ حرارت میں اضافے، ہواؤں کی سمت میں تبدیلی اور سمندر کی سطح بلند ہونے کے باعث دنیا بھر میں موسموں کے معمولات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی ادارے برائے سمندری و فضائی تحقیق کے مطابق اکتوبر 2026 میں اس بات کا 83 فیصد امکان ظاہر کیا گیا کہ دنیا اس وقت 1950 کے بعد سب سے طاقتور ال نینو کا سامنا کر رہی ہے۔ اس موسمی رجحان کے اثرات کسانوں، جنگلات میں آگ بجھانے والے اداروں اور ساحلی علاقوں میں آباد لوگوں کے لیے مختلف صورتوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔
ال نینو ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران رونما ہوتا ہے۔ اس دوران خط استوا کے قریب بحرالکاہل کے بعض حصوں میں سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہواؤں، بارشوں اور عالمی موسمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
ناسا کے مصنوعی سیاروں نے جنوری 2026 میں بحرالکاہل کے مغربی حصے میں مائیکرونیشیا کے قریب گرم پانی کی ایک بڑی لہر کا سراغ لگایا، جسے کیلون لہر کہا جاتا ہے۔ یہ لہریں سمندر کے اندر ہزاروں میل تک پھیلنے والی حرارت کی لہریں ہوتی ہیں، جو گرم پانی اور توانائی کو مغرب سے مشرق کی جانب منتقل کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی شنگھائی الیکٹرک کو توانائی اور پانی کے منصوبوں میں تعاون کی دعوت
اپریل کے آغاز تک یہ لہریں بحرالکاہل کے مشرقی حصے تک پہنچ گئیں، جہاں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گیا۔ گرم پانی پھیلنے کے باعث جنوبی امریکا کے قریب بعض علاقوں میں سمندر کی سطح معمول سے 30 سے 40 سینٹی میٹر تک بلند ریکارڈ کی گئی، جبکہ انڈونیشیا اور شمالی آسٹریلیا کے اطراف سمندر کی سطح معمول سے 15 سے 20 سینٹی میٹر کم دکھائی دی۔
ناسا کے سائنس دان جوش ولس نے کیلون لہروں کو ال نینو کی دھڑکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندر کی سطح کی پیمائش کرنے والے مصنوعی سیارے سائنس دانوں کو سمندر کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
سائنس دان 1993 سے مصنوعی سیاروں کے ذریعے سمندر کی سطح کی انتہائی درست پیمائش کر رہے ہیں۔ جدید ریڈار آلات سے لیس سیارے روزانہ لاکھوں مربع میل سمندری علاقے کا جائزہ لیتے ہیں، جبکہ سمندر میں موجود خودکار آلات اور تیرتے ہوئے پیمائشی آلات بھی اس تحقیق میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
ناسا کے مطابق بحرالکاہل کے مشرقی حصے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے تقریباً 1.7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں اس میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندر کے گرم پانی سے فضا میں حرارت اور نمی منتقل ہوتی ہے، جس سے بارشوں کے نظام اور دنیا کے مختلف خطوں کے موسم متاثر ہو سکتے ہیں۔ ال نینو کے نتیجے میں کہیں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، تو کہیں خشک سالی، گرمی کی شدت اور جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔












