واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) ذرا تصور کیجیے آپ رات کو آسمان کی طرف دیکھیں ستارے کم اور مصنوعی سیارے زیادہ نظر آئیں یہ کسی فلم کا منظر نہیں اسپیس ایکس زمین کے گرد 10 لاکھ مصنوعی سیاروں کا جال بچھانے کی تیاری کررہا ہے!اور اگر یہ منصوبہ حقیقت بن گیا… تو خلا کیسا دکھائی دے گا؟اسپیس ایکس نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں پہلی مرتبہ دکھایا گیا ہے کہ اس کا مجوزہ اسٹار مائنڈ نظام زمین کے گرد کیسا نظر آسکتا ہے۔منصوبہ کتنا بڑا ہے؟موجودہ اسٹار لنک نظام کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا بڑا!یعنی زمین کے گرد لاکھوں مصنوعی سیارے…اور ان سے بننے والے دو بڑے مصنوعی حلقے!مگر اصل مقصد صرف انٹرنیٹ فراہم کرنا نہیں…
اسپیس ایکس خلا میں ہی ایسے ڈیٹا مراکز قائم کرنا چاہتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے انتہائی طاقتور حسابی کام کیے جاسکیں۔کچھ مصنوعی سیارے ایسے مداروں میں ہوں گے جہاں انہیں زیادہ دیر تک سورج کی روشنی ملتی رہے گی، تاکہ بجلی کی مسلسل فراہمی ممکن ہو۔لیکن یہاں سے کہانی میں خطرناک موڑ آتا ہے!ماہرین فلکیات کو خدشہ ہے کہ اگر لاکھوں مصنوعی سیارے خلا میں پہنچ گئے تو رات کا آسمان ہی بدل جائے گا۔ایک ماہر کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں میں رات کے وقت آسمان پر ستاروں سے زیادہ مصنوعی سیارے نظر آسکتے ہیں!اور صرف روشنی کی آلودگی نہیں…اتنی بڑی تعداد میں مصنوعی سیاروں کے درمیان ٹکراؤ کا خطرہ بھی موجود ہوگا۔بعض اسٹار مائنڈ سیاروں کا وزن چار ہزار کلوگرام تک ہوسکتا ہے، جبکہ ان کے شمسی پینل 246 فٹ تک پھیل سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمزکھولنے کیلئے 7 روزہ منصوبے کی پھر پیشکش کردی
اگر ایک تصادم ہوا… تو خلائی ملبے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ خلا میں محفوظ فاصلہ برقرار رکھا جاسکتا ہے…لیکن سوال یہ ہے:کیا انسان خلا کو ڈیٹا مراکز سے بھرنے جارہا ہے… یا مستقبل کی سب سے بڑی خلائی ٹریفک کے خطرے کو دعوت دے رہا ہے؟












