نیو یارک ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ملاقات میں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون سمیت ہنرمند افرادی قوت کے تبادلے، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔
وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کو تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی مضبوط اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بوسنیا و ہرزیگووینا سے وابستہ ہے۔وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات کے باضابطہ آغاز پر ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ کو مبارکباد بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں ایرانی اور امریکی فریق کے درمیان قطری ثالث کے ذریعے رابطہ ہوا، اسماعیل بقائی
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کو یورپی اور مغربی بلقان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے خطے میں تجارت اور علاقائی روابط کے ممکنہ مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔ملاقات میں ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور حالات معمول پر لانے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔بوسنیا و ہرزیگووینا کے رہنما نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کی غیر قانونی حیثیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے باہمی رابطے جاری رکھنے اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں آئندہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں کے تبادلے کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔












