اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) بجلی کے بلوں میں سلیب نظام کے نفاذ کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، عدالت نے قومی بجلی ضابطہ کار اتھارٹی سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔جسٹس خالد اسحاق نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں نیپرا سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بجلی کے بلوں میں سلیب نظام کا نفاذ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ دو سو یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین محفوظ زمرے میں شامل ہیں، تاہم سلیب نظام کے باعث بجلی کا بل دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ سلیب نظام کے تحت بڑھا ہوا بجلی کا بل صارفین کو چھ ماہ تک بطور سزا بھگتنا پڑتا ہے۔درخواست گزار کے مطابق نیپرا ایک ضابطہ کار ادارہ ہے، اسے صارفین کو سزا دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ سلیب نظام نیپرا سے متعلق قانون کی متعدد دفعات سے بھی متصادم ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی ہے کہ محفوظ صارفین کے لیے مخصوص سلیب ختم کیے جارہے ہیں۔عدالت نے مفاد عامہ کے مقدمات کو فوری نوعیت کے مقدمات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کے لیے بیٹری لازمی قرار دینے کی منظوری
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ بجلی کے بلوں میں سلیب نظام کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔عدالت نے نیپرا سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی












