تہران ( پاک ترک نیوز) آبنائے ہرمز کے قریب دو ایسے جزیرے ہیں جن پر قبضہ ایران کی معاشی اور عسکری طاقت کو ہلا سکتا ہے۔۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان چھوٹے سے جزیروں میں ایسا کیا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کی نظریں یہاں جمی ہوئی ہیں؟
لارک جزیرہ آبنائے ہرمز کے تنگ ترین مقام کے قریب واقع ہے۔ یہاں زیرِ زمین بنکرز، دفاعی تنصیبات اور حملہ آور کشتیاں موجود ہیں، جبکہ ایران اسی جزیرے سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر نظر رکھتا ہے۔ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ بعض بحری جہازوں کو لارک کے قریب مخصوص راستے سے گزرنا ہوگا، جبکہ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہازوں سے بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی،ابراہیم عزیزی
لیکن اصل کہانی خارگ جزیرے کی ہے۔صرف 20 مربع کلومیٹر کے قریب رقبے پر موجود یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کی مرکزی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ ایران کے خام تیل کا بڑا حصہ اسی مقام سے بڑے ٹینکروں میں عالمی منڈیوں کی طرف روانہ ہوتا ہے۔یعنی تصور کریں… اگر خارگ کی تیل تنصیبات رک جائیں اور لارک کے ذریعے آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہو جائے تو ایران کی معیشت اور جنگی صلاحیت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟اسی لیے یہ دونوں جزیرے صرف زمین کے ٹکڑے نہیں، بلکہ ایران کے لیے بحری نگرانی، تیل کی برآمد اور معاشی بقا کے انتہائی اہم مراکز ہیں۔
اور یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی کشیدگی میں ان جزیروں کی اہمیت ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔












