انسانی تاریخ کے مشکل ترین خلائی مشنز میں سے ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔سورج کے سب سے قریب سیارہ عطارد ایک بار پھر سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں آٹھ سال تک خلا میں سفر کرنے والا خلائی مشن بیپی کولومبو اب اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
یورپی خلائی ایجنسی اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کا مشترکہ مشن بیپی کولمبو ایک اہم مرحلے سے گزرا، جب اس کے دو سائنسی خلائی جہاز مرکزی ٹرانسفر ماڈیول سے کامیابی سے الگ ہوگئے۔
یورپی خلائی ایجنسی کا مرکری پلانیٹری آربیٹر اور جاپانی ایجنسی کا مرکری میگنیٹوسفیئرک آربیٹر الگ ہونے کے بعد زمین پر مضبوط سگنلز بھیجنے میں کامیاب رہے۔
لیکن ابھی مشن مکمل نہیں ہوا۔دونوں خلائی جہاز نومبر تک ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رہیں گے، جس کے بعد یہ عطارد کے گرد مدار میں داخل ہوں گے۔
دسمبر میں دونوں اپنے اپنے الگ مدار اختیار کریں گے، جبکہ مکمل سائنسی تحقیق اگلے سال اپریل سے شروع ہونے کی توقع ہے۔اور سائنس دانوں کی نظریں اس مشن سے ملنے والی نئی معلومات پر ہیں۔
یورپی خلائی جہاز عطارد کی سطح، اندرونی ساخت اور ارضیاتی خصوصیات کا جائزہ لے گا، جبکہ جاپانی خلائی جہاز عطارد کے مقناطیسی میدان اور میگنیٹوسفیئر کا مطالعہ کرے گا۔
عطارد کا مطالعہ انتہائی مشکل ہے، کیونکہ یہ سورج کے بہت قریب ہے۔ اب تک صرف ناسا کا میسنجر خلائی جہاز ہی عطارد کے گرد مدار میں رہ کر اس کا تفصیلی مشاہدہ کرچکا ہے۔
بیپی کولمبو اس سیارے کے کئی قریب سے گزرنے والے مراحل پہلے ہی مکمل کرچکا ہے۔
2021 میں ایک فلائی بائی کے دوران اس نے عطارد کی سطح کی تصاویر صرف 199 کلومیٹر کے فاصلے سے حاصل کی تھیں۔






