کویت سٹی ( پاک ترک نیوز) کویت کی حکومت نے سرکاری مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ملک کے خودمختار دولت فنڈ فیوچر جنریشنز فنڈ سے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فنڈ کے اثاثوں کی مالیت ایک کھرب ڈالر سے زائد ہے۔کویتی حکومت کی جانب سے جاری نئے حکم نامے کے تحت 1976 کے اس قانون میں ترمیم کی گئی ہے جس کے ذریعے فیوچر جنریشنز فنڈ کو منظم کیا جاتا ہے۔ یہ فنڈ کویت کی سرمایہ کاری اتھارٹی کے زیر انتظام ہے اور ملکی دولت کا ایک بڑا حصہ مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کے مقصد سے دنیا بھر کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔
فیوچر جنریشنز فنڈ کو کویت کے لیے تیل کے بعد کے دور کی مالی ضمانت اور ہنگامی حالات میں اہم مالیاتی سہارا سمجھا جاتا ہے۔ کویت نے پہلی مرتبہ 1990 میں عراق کے حملے اور تقریباً سات ماہ تک جاری رہنے والے قبضے کے دوران اس فنڈ سے رقم حاصل کی تھی۔نئے حکم نامے کے مطابق فنڈ سے لیا جانے والا قرض ریاستی بجٹ میں سرپلس آنے کی صورت میں واپس کرنا ہوگا اور قرض کی واپسی کو ترجیح حاصل ہوگی۔ قرض کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جاسکے گا، البتہ نئی قانون سازی کے ذریعے دیے گئے اختیارات کے تحت اس حوالے سے فیصلہ ممکن ہوگا۔کویتی حکومت نے فنڈ کے اصل سرمائے کے تحفظ کے لیے قرض لینے کی سخت حدود بھی مقرر کی ہیں۔ایک مالی سال کے دوران فنڈ سے لیا جانے والا مجموعی قرض گزشتہ پانچ آڈٹ شدہ مالی سالوں کے دوران فنڈ سے حاصل ہونے والے اوسط منافع کے 100 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو جوہری توانائی میں توسیع کے لیے مالیاتی قوانین اور افرادی قوت بہتر بنانے کی تجویز
اسی طرح مجموعی بقایا قرض فنڈ کے خالص اثاثوں کی مالیت کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔اگر ان میں سے کوئی بھی حد تجاوز کرجائے تو مزید قرض لینے پر پابندی ہوگی اور یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک قرض کی شرح مقررہ حد کے اندر واپس نہیں آجاتی۔حکم نامے کے مطابق کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کو فنڈ کے اثاثوں کے انتظام کے لیے مالی، سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے ضروری ذرائع استعمال کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جبکہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی فنڈ میں شامل کی جائے گی۔












