واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا کی ہبل خلائی دوربین نے زحل کے جنوبی قطب کے گرد ایک دیوہیکل اور مسلسل تبدیل ہونے والی دس کونوں والی فضائی لہر دریافت کی ہے، جو زحل کے ماحول میں ایک غیر معمولی اور پہلے کبھی نہ دیکھی جانے والی ساخت کی نشاندہی کرتی ہے۔سائنس دانوں کے مطابق زحل کے جنوبی نصف کرۂ فضائی میں پہلی مرتبہ کسی بڑے اور باقاعدہ کثیرالاضلاع شکل اختیار کرنے والے فضائی بہاؤ کا مشاہدہ ہوا ہے۔ یہ ساخت زحل کے شمالی قطب پر موجود مشہور چھ کونوں والی فضائی ساخت سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم اس میں نمایاں فرق بھی موجود ہیں۔
تحقیق کے مطابق اس نئی ساخت کے ابتدائی آثار 2023 کی ہبل دوربین سے حاصل ہونے والی تصاویر میں نظر آئے، جبکہ 2024 اور 2025 میں زمین سے حاصل کی گئی تصاویر میں بھی جنوبی قطب کے گرد ایک ہلکی سی لہردار پٹی دیکھی گئی۔ بعد ازاں ہبل کی انتہائی واضح تصاویر نے اس ساخت کی موجودگی کی تصدیق کردی۔تحقیق کی سربراہ یونیورسٹی آف باسک کنٹری، اسپین سے وابستہ ماہرِ فلکیات آگسٹن سانچیز لاویگا ہیں۔ ان کے مطابق ماہرین 1990 سے زحل کے جنوبی قطب پر شمالی قطب جیسی کسی مستقل ساخت کے آثار تلاش کر رہے تھے، تاہم اس سے قبل ایسی کوئی طویل عرصے تک قائم رہنے والی ساخت سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: کائنات کی نئی آنکھ خلا میں جانے کو تیار
سائنس دان ایمی سائمن کے مطابق زحل کے شمالی قطب کی چھ کونوں والی ساخت گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل دیکھی جا رہی ہے، لیکن جنوبی قطب پر دریافت ہونے والی نئی ساخت مختلف ہے کیونکہ یہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ماہرین کے مطابق دس کونوں والی یہ فضائی لہر زحل کی طاقتور فضائی تیز دھار کے اندر موجود ہے اور ماحول کی کئی تہوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف بادلوں کی سطح پر بننے والی عارضی شکل نہیں بلکہ زحل کے ماحول میں عمودی طور پر پھیلی ہوئی ایک بڑی ساخت ہے۔












