اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون بارش کے طاقتور اسپیل نے نظامِ زندگی متاثر کر دیا، موسلادھار بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے جبکہ سڑکوں اور گلیوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔امدادی کاموں کے لیے فوج طلب کر لی گئی۔
اسلام آباد میں مختلف سیکٹرز کے نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہے، ایئرپورٹ روڈ، اسلام آباد ایکسپریس وے اور دیگر اہم شاہراہوں پر پانی کھڑا ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ سیکٹر ای الیون میں برساتی نالہ اوور فلو ہونے سے سڑکوں اور بعض بیسمنٹس میں پانی داخل ہوا، جس کے بعد نکاسیٔ آب کا آپریشن شروع کر دیا گیا۔ راولپنڈی میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی، پیرودھائی سے ملحقہ صفدرآباد، گلی لوہاراں، فوجی کالونی، جاوید کالونی، ڈھوک کھبہ اور دیگر نشیبی علاقے بارش کے پانی سے متاثر ہوئے۔ بعض مقامات پر پانی گھروں، دکانوں اور سڑکوں میں داخل ہوگیا جبکہ راجہ بازار اور اطراف کی سڑکیں بھی زیرِ آب آگئیں۔ نالہ لئی میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی۔ کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 27.5 فٹ تک پہنچ گئی جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 21.5 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ دونوں مقامات پر پانی کی سطح انخلا کی مقررہ حد 20 فٹ سے تجاوز کرچکی ہے، جس کے بعد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ایم ایف کے 7 میں سے 6 اہداف پورے کرنے کے قریب، ستمبر میں اہم جائزہ متوقع
شدید بارش کے باعث راولپنڈی میں رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے واسا، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے اضافی پمپس اور بھاری مشینری بھی تعینات کی گئی ہے۔ بارش کے باعث جڑواں شہروں میں متعدد مقامات پر ٹریفک بھی شدید متاثر ہوئی۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نالوں اور نشیبی علاقوں کے قریب نہ جانے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
دوسری جانب شدید بارش اور نالہ لئی میں پانی کی مسلسل بلند ہوتی سطح کے پیش نظر راولپنڈی میں یکم ستمبر کو تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا۔












