گلگت ( پاک ترک نیوز) گلگت بلتستان میں رواں سال غیر ملکی سیاحوں، کوہ پیماؤں اور ٹریکرز کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے مطابق اپریل سے اگست کے دوران 2200 سے زائد غیر ملکی کوہ پیما اور ٹریکرز گلگت بلتستان پہنچے، جہاں انہوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور مختلف ٹریکنگ روٹس کا رخ کیا۔محکمہ سیاحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد حسین کے مطابق غیر ملکی مہم جوؤں نے کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک، گاشر برم ون اور گاشر برم ٹو سمیت بلند پہاڑوں کا رخ کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال گلگت بلتستان کے سیاحتی اور اوپن زون علاقوں کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
محکمہ سیاحت کے مطابق رواں سال غیر ملکی مہم جوؤں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ گزشتہ سال مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کی آمد متاثر ہوئی تھی۔حکام کے مطابق کوہ پیمائی کا سیزن ختم ہوچکا ہے، تاہم محدود علاقوں میں ٹریکنگ کا سلسلہ جاری ہے اور کے ٹو بیس کیمپ ٹریک پر بھی سیاح موجود ہیں۔ ٹریکرز کی آمد اکتوبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔رواں موسم گرما میں 30 جون تک گلگت بلتستان حکومت نے کوہ پیمائی اور ٹریکنگ پرمٹس کی مد میں 35 کروڑ روپے حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کی قدرتی کولنگ شیلڈ کمزور پڑنے لگی، برف پگھلنے سے عالمی درجہ حرارت بڑھنے کا خطرہ
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر ریٹائرڈ میجر جنرل عرفان ارشد خان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور دیگر مشکلات کے باوجود غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ حوصلہ افزا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاحت گلگت بلتستان کے عوام کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ کوہ پیمائی اور ٹریکنگ فیس کے علاوہ مقامی پورٹرز، ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز اور دکاندار بھی غیر ملکی سیاحوں سے نمایاں آمدن حاصل کرتے ہیں۔
میجر جنرل عرفان ارشد خان کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے پاکستان کے سفر سے متعلق ایڈوائزریز اور غیر ملکی کوہ پیماؤں و ٹریکرز کے پرمٹس کے اجرا میں تاخیر کے باعث سیاحوں کی تعداد مزید بڑھ نہ سکی، ورنہ اس سال گلگت بلتستان آنے والے غیر ملکی مہم جوؤں کی تعداد 2200 سے بھی زیادہ ہوتی۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اگلے سال 4 ہزار سے زائد غیر ملکی کوہ پیما اور ٹریکرز گلگت بلتستان کا رخ کرسکتے ہیں، جبکہ پرمٹس کے اجرا میں تاخیر سمیت دیگر مسائل بھی حل کیے جائیں گے۔






