اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے سات میں سے چھ مقداری اہداف پورے کرنے کی پوزیشن میں ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی ٹیم ستمبر 2026 میں پاکستان کا دورہ کرکے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے چوتھے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تیسرے جائزے کا آغاز کرے گی۔عارف حبیب لمیٹڈ کی تازہ رپورٹ کے مطابق سات میں سے چھ اہداف مارچ اور جون 2026 کی مقررہ مدت پر پورے ہونے کا امکان ہے، جبکہ نئے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد سے متعلق ایک اہم ڈیٹا ابھی دستیاب نہیں۔
رپورٹ کے مطابق نئے ٹیکس فائلرز کے لیے مارچ تک 7 لاکھ اور جون تک 10 لاکھ نئے ریٹرنز کا ہدف مقرر تھا۔اسٹیٹ بینک کے نیٹ ڈومیسٹک اثاثے جون 2026 میں 11 ہزار 95 ارب روپے رہے، جو آئی ایم ایف کی مقررہ حد 15 ہزار 798 ارب روپے سے کم ہیں۔اسی طرح ہدفی نقد منتقلی 706 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ مقررہ کم از کم سطح 694 ارب روپے تھی۔عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق ستمبر کا آئی ایم ایف جائزہ نئے وعدوں کے بجائے اصلاحات پر مستقل عمل درآمد کا امتحان ہوگا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایف بی آر کی ایک بار پھر ٹیکس وصولیوں میں کمی اور بعض ساختی اصلاحات میں تاخیر جائزے کے شیڈول کو متاثر کرسکتی ہے۔ایف بی آر مالی سال 2026 کے ٹیکس ہدف سے ایک ہزار 100 ارب روپے کم رہا، جبکہ مالی سال 2027 میں ٹیکس وصولیاں تقریباً 14 ہزار 100 ارب روپے رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 میں پاکستان کا مالی خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 3.9 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 2.6 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے معدنی ذخائر گیم چینجر،سکیورٹی اور سیاسی عدم استحکام بڑی رکاوٹ قرار
حکومتی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 22 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 8 ہزار 500 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی حکومتی اخراجات بڑھ کر 17 ہزار 800 ارب روپے جبکہ بنیادی بجٹ سرپلس تقریباً 2 ہزار 900 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔












