واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) ناسا کے انجینئرز نے 49 سال پرانے خلائی جہاز وائجر 2 کے پاور سسٹم میں کامیاب تبدیلی کرکے اس کے تین سائنسی آلات کو کم از کم مزید ایک سال تک فعال رکھنے کا انتظام کرلیا وائجر 2 اس وقت نظام شمسی کی حدود سے باہر انٹر اسٹیلر اسپیس میں موجود ہے اور اس کے ذریعے بین النجمی خلا میں براہ راست سائنسی مشاہدات جاری ہیں۔ناسا کے مطابق جولائی 2026 میں انجینئرز نے ایک پیچیدہ آپریشن کیا، جسے ’’بگ بینگ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بعض آلات بند کرکے کم توانائی استعمال کرنے والے متبادل نظام فعال کیے گئے۔
اس آپریشن کا سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ بجلی کی بچت کے ساتھ خلائی جہاز کا درجہ حرارت بھی محفوظ حد میں برقرار رکھا جائے، کیونکہ وائجر 2 کے کچھ آلات بجلی استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ حرارت بھی پیدا کرتے ہیں۔وائجر 2 زمین سے اتنا دور ہے کہ زمین سے بھیجا گیا سگنل تقریباً 19 گھنٹے 30 منٹ میں وہاں پہنچتا ہے، جبکہ جواب واپس آنے میں بھی اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ یعنی ایک کمانڈ اور اس کے نتیجے کی تصدیق میں تقریباً 39 گھنٹے لگتے ہیں۔وائجر 2 پر اب تین سائنسی آلات فعال ہیں۔میگنیٹو میٹر خلا میں مقناطیسی میدان کی طاقت اور سمت کا جائزہ لیتا ہے۔
پلازما ویو سب سسٹم بین النجمی خلا میں برقی لہروں کا مشاہدہ کرکے وہاں موجود الیکٹرانز کی کثافت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔جبکہ کاس्मिक رے سب سسٹم انتہائی توانائی والے ذرات کی توانائی اور ساخت کا مطالعہ کرتا ہے۔یہ تینوں آلات مل کر سائنس دانوں کو بین النجمی خلا میں مقناطیسی میدان، پلازما اور توانائی والے ذرات کے بارے میں براہ راست معلومات فراہم کرتے ہیں۔وائجر 1 اور وائجر 2 اس وقت انسان کے بنائے ہوئے واحد فعال خلائی مشنز ہیں جو ہیلیوپاز سے باہر موجود ہیں۔ ہیلیوپاز وہ حد ہے جہاں سورج سے آنے والی شمسی ہوا کا اثر غالب رہنا ختم ہوجاتا ہے اور بین النجمی ماحول شروع ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا فالکن نائن راکٹ100ویں پرواز کیلئے تیار
ناسا کے مطابق موجودہ پاور مینجمنٹ کے بعد وائجر 2 کے تینوں سائنسی آلات کم از کم مزید ایک سال کام کرسکتے ہیں، تاہم یہ کوئی حتمی ضمانت نہیں کیونکہ تقریباً پانچ دہائیوں پرانے خلائی جہاز میں کسی بھی وقت دیگر تکنیکی خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔یعنی وائجر 2 کو ملنے والا یہ اضافی ایک سال صرف وقت کی توسیع نہیں بلکہ انسانیت کے لیے بین النجمی خلا سے مزید قیمتی معلومات حاصل کرنے کا اضافی موقع بھی ہے۔












