لاہور( پاک ترک نیوز) معروف ماہرِ فلکیات پروفیسر ایوی لوب نے کہا ہے کہ موجودہ سائنسی اصولوں کے مطابق انسان کے لیے پوری کہکشاں کا سفر چند برسوں میں کرنا مکمل طور پر ناممکن نہیں، تاہم اس کے لیے ایسی جدید ٹیکنالوجی، غیر معمولی توانائی اور خلائی انجینئرنگ درکار ہوگی جو اس وقت انسان کے پاس موجود نہیں۔
انہوں نے اپنی تازہ تحریر میں بتایا کہ کائنات کے بنیادی قوانین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ روشنی کی رفتار کائنات میں سفر کی آخری حد سمجھی جاتی ہے، اس سے زیادہ رفتار حاصل کرنا موجودہ سائنس کے مطابق ممکن نہیں۔
ماہرِ فلکیات کے مطابق سورج ہماری کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی خلائی جہاز روشنی کی رفتار سے بھی سفر کرے تو زمین پر موجود لوگوں کے حساب سے کہکشاں کے مرکز تک پہنچنے میں تقریباً 26 ہزار سال لگیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: خلاء سے امریکی شہر سیئٹل کا دلکش نظارہ
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں سائنس دانوں نے خلا میں ایسے فرضی راستوں کا تصور پیش کیا تھا جو کائنات کے دو مختلف مقامات کو مختصر راستے سے جوڑ سکتے ہیں، لیکن آج تک نہ ان کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت ملا ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہو سکا ہے کہ انسان ان کے ذریعے سفر کر سکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اگر ایسے راستے موجود بھی ہوں تو وہ فوری طور پر بند ہو جاتے ہیں اور ان سے گزرنے کے لیے ایسے مادے کی ضرورت ہوگی جس کی خصوصیات آج تک دریافت نہیں ہو سکیں۔
رپورٹ کے مطابق طویل خلائی سفر میں ایک اور بڑا مسئلہ انسانی صحت ہے۔ کم کششِ ثقل والے ماحول میں رہنے سے انسان کی ہڈیاں ہر ماہ اپنی مضبوطی کا ایک حصہ کھو دیتی ہیں، اس لیے کئی برس تک خلا میں رہنا انسانی جسم کے لیے شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ خلائی جہاز مسلسل ایسی رفتار سے آگے بڑھے جس سے اس کے اندر زمین جیسی کششِ ثقل پیدا ہو جائے۔ اگر کوئی خلائی جہاز مسلسل زمین کی کششِ ثقل کے برابر رفتار بڑھاتا رہے تو تقریباً ایک سال میں روشنی کی رفتار کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر خلائی جہاز سفر کے پہلے حصے میں مسلسل رفتار بڑھائے اور منزل کے قریب پہنچ کر دوسرے حصے میں اسی رفتار سے اپنی رفتار کم کرے تو مسافروں کے اپنے وقت کے مطابق کہکشاں کے مرکز تک سفر تقریباً 20 سال میں مکمل ہو سکتا ہے، جبکہ زمین پر اس دوران 26 ہزار سال گزر چکے ہوں گے۔
اسی طرح اگر خلائی جہاز منزل پر پہنچ کر رفتار کم نہ کرے اور مسلسل آگے بڑھتا رہے تو مسافروں کے لیے یہ سفر تقریباً 11 سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی جسم روشنی کی رفتار کے قریب پہنچتا ہے تو اس کے اندر موجود افراد کے لیے وقت نسبتاً سست رفتار سے گزرتا ہے، جبکہ زمین پر وقت معمول کے مطابق آگے بڑھتا رہتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس نظریاتی سفر کی سب سے بڑی رکاوٹ توانائی ہے۔ خلائی جہاز کو اتنی زیادہ رفتار دینے کے لیے ناقابلِ تصور مقدار میں توانائی درکار ہوگی۔ صرف ایک انسان کو اس رفتار تک پہنچانے کے لیے درکار توانائی آج دنیا کے تمام جوہری ہتھیاروں میں موجود مجموعی توانائی کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خلائی جہاز کو ایندھن، حفاظتی نظام اور خلا میں موجود انتہائی تیز رفتار ذرات سے بچاؤ کے لیے بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔
تحقیق میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں سائنس دان ایسے غیر معمولی مادے دریافت کر لیں جن سے کسی خلائی جہاز کی مجموعی کمیت تقریباً صفر کی جا سکے تو اسے انتہائی کم توانائی سے روشنی کی رفتار کے قریب پہنچانا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت ایسی کسی چیز کا نہ کوئی عملی ثبوت موجود ہے اور نہ ہی اس کی تیاری ممکن ہو سکی ہے۔
پروفیسر ایوی لوب کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کبھی انسان کی ملاقات کسی دوسری سیاروی تہذیب سے ہوئی تو ان سے صرف یہ پوچھنا کافی ہوگا کہ انہوں نے کتنی دوری کتنے عرصے میں طے کی، کیونکہ اس جواب سے اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آیا انہوں نے طویل خلائی سفر کے موجودہ سائنسی مسائل حل کر لیے ہیں یا کسی ایسی نئی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر لی ہے جس سے انسان ابھی تک ناواقف ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ یہ تمام امکانات فی الحال نظریاتی ہیں، لیکن اضافیت کے نظریے کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہے کہ مسافروں کے اپنے وقت کے مطابق انتہائی طویل خلائی سفر انسانی زندگی کے اندر مکمل ہونا ممکن ہو سکتا ہے، البتہ موجودہ دور میں اس کے لیے درکار ٹیکنالوجی اور توانائی انسان کی پہنچ سے باہر ہے۔











