منگل , 28 جولائی , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
پاک ترک نیوز
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
Home تازہ ترین

کیا انسان چند برسوں میں پوری کہکشاں کا سفر کر سکتا ہے؟

59 منٹس پہلے
A A
Can a human travel across the entire galaxy in a few years
Share on Facebookwhatsapp

لاہور( پاک ترک نیوز) معروف ماہرِ فلکیات پروفیسر ایوی لوب نے کہا ہے کہ موجودہ سائنسی اصولوں کے مطابق انسان کے لیے پوری کہکشاں کا سفر چند برسوں میں کرنا مکمل طور پر ناممکن نہیں، تاہم اس کے لیے ایسی جدید ٹیکنالوجی، غیر معمولی توانائی اور خلائی انجینئرنگ درکار ہوگی جو اس وقت انسان کے پاس موجود نہیں۔

انہوں نے اپنی تازہ تحریر میں بتایا کہ کائنات کے بنیادی قوانین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ روشنی کی رفتار کائنات میں سفر کی آخری حد سمجھی جاتی ہے، اس سے زیادہ رفتار حاصل کرنا موجودہ سائنس کے مطابق ممکن نہیں۔

ماہرِ فلکیات کے مطابق سورج ہماری کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی خلائی جہاز روشنی کی رفتار سے بھی سفر کرے تو زمین پر موجود لوگوں کے حساب سے کہکشاں کے مرکز تک پہنچنے میں تقریباً 26 ہزار سال لگیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: خلاء سے امریکی شہر سیئٹل کا دلکش نظارہ

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں سائنس دانوں نے خلا میں ایسے فرضی راستوں کا تصور پیش کیا تھا جو کائنات کے دو مختلف مقامات کو مختصر راستے سے جوڑ سکتے ہیں، لیکن آج تک نہ ان کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت ملا ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہو سکا ہے کہ انسان ان کے ذریعے سفر کر سکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اگر ایسے راستے موجود بھی ہوں تو وہ فوری طور پر بند ہو جاتے ہیں اور ان سے گزرنے کے لیے ایسے مادے کی ضرورت ہوگی جس کی خصوصیات آج تک دریافت نہیں ہو سکیں۔

رپورٹ کے مطابق طویل خلائی سفر میں ایک اور بڑا مسئلہ انسانی صحت ہے۔ کم کششِ ثقل والے ماحول میں رہنے سے انسان کی ہڈیاں ہر ماہ اپنی مضبوطی کا ایک حصہ کھو دیتی ہیں، اس لیے کئی برس تک خلا میں رہنا انسانی جسم کے لیے شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ خلائی جہاز مسلسل ایسی رفتار سے آگے بڑھے جس سے اس کے اندر زمین جیسی کششِ ثقل پیدا ہو جائے۔ اگر کوئی خلائی جہاز مسلسل زمین کی کششِ ثقل کے برابر رفتار بڑھاتا رہے تو تقریباً ایک سال میں روشنی کی رفتار کے قریب پہنچ سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر خلائی جہاز سفر کے پہلے حصے میں مسلسل رفتار بڑھائے اور منزل کے قریب پہنچ کر دوسرے حصے میں اسی رفتار سے اپنی رفتار کم کرے تو مسافروں کے اپنے وقت کے مطابق کہکشاں کے مرکز تک سفر تقریباً 20 سال میں مکمل ہو سکتا ہے، جبکہ زمین پر اس دوران 26 ہزار سال گزر چکے ہوں گے۔

اسی طرح اگر خلائی جہاز منزل پر پہنچ کر رفتار کم نہ کرے اور مسلسل آگے بڑھتا رہے تو مسافروں کے لیے یہ سفر تقریباً 11 سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی جسم روشنی کی رفتار کے قریب پہنچتا ہے تو اس کے اندر موجود افراد کے لیے وقت نسبتاً سست رفتار سے گزرتا ہے، جبکہ زمین پر وقت معمول کے مطابق آگے بڑھتا رہتا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس نظریاتی سفر کی سب سے بڑی رکاوٹ توانائی ہے۔ خلائی جہاز کو اتنی زیادہ رفتار دینے کے لیے ناقابلِ تصور مقدار میں توانائی درکار ہوگی۔ صرف ایک انسان کو اس رفتار تک پہنچانے کے لیے درکار توانائی آج دنیا کے تمام جوہری ہتھیاروں میں موجود مجموعی توانائی کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خلائی جہاز کو ایندھن، حفاظتی نظام اور خلا میں موجود انتہائی تیز رفتار ذرات سے بچاؤ کے لیے بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔

تحقیق میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں سائنس دان ایسے غیر معمولی مادے دریافت کر لیں جن سے کسی خلائی جہاز کی مجموعی کمیت تقریباً صفر کی جا سکے تو اسے انتہائی کم توانائی سے روشنی کی رفتار کے قریب پہنچانا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت ایسی کسی چیز کا نہ کوئی عملی ثبوت موجود ہے اور نہ ہی اس کی تیاری ممکن ہو سکی ہے۔

پروفیسر ایوی لوب کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کبھی انسان کی ملاقات کسی دوسری سیاروی تہذیب سے ہوئی تو ان سے صرف یہ پوچھنا کافی ہوگا کہ انہوں نے کتنی دوری کتنے عرصے میں طے کی، کیونکہ اس جواب سے اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آیا انہوں نے طویل خلائی سفر کے موجودہ سائنسی مسائل حل کر لیے ہیں یا کسی ایسی نئی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر لی ہے جس سے انسان ابھی تک ناواقف ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ یہ تمام امکانات فی الحال نظریاتی ہیں، لیکن اضافیت کے نظریے کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہے کہ مسافروں کے اپنے وقت کے مطابق انتہائی طویل خلائی سفر انسانی زندگی کے اندر مکمل ہونا ممکن ہو سکتا ہے، البتہ موجودہ دور میں اس کے لیے درکار ٹیکنالوجی اور توانائی انسان کی پہنچ سے باہر ہے۔

موضوعات : galaxysapcetravel
ShareSend

متعلقہ خبریں

A stunning view of the American city of Seattle from space.
تازہ ترین

خلاء سے امریکی شہر سیئٹل کا دلکش نظارہ

23 جولائی , 2026
How many Pakistanis went abroad in 50 years
تازہ ترین

50سال میں کتنے پاکستانی بیرون ملک گئے؟

9 جولائی , 2026
The Journey from Poverty to Prosperity
تازہ ترین

غربت سے خوشحالی کا سفر

3 جولائی , 2026
New ranking of the world's most powerful passports Europe's complete dominance.
تازہ ترین

دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی نئی درجہ بندی ، یورپ کا مکمل غلبہ

2 جولائی , 2026
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں مزید تنزلی
تازہ ترین

پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں مزید تنزلی

15 اکتوبر , 2025
اگلی خبر
Approval of proposed amendments to the Pakistan Oil Refining Policy 2023

پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری

یہ بھی پڑھیں

Launch of the ‘Zakirat Makkah’ campaign to raise awareness about the historical and cultural sites of Makkah.

مکہ مکرمہ کے تاریخی اور ثقافتی مقامات سے آگہی کی مہم ’ذاکرہ مکہ‘ کا آغاز

28 جولائی , 2026
Approval of proposed amendments to the Pakistan Oil Refining Policy 2023

پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری

28 جولائی , 2026
Can a human travel across the entire galaxy in a few years

کیا انسان چند برسوں میں پوری کہکشاں کا سفر کر سکتا ہے؟

28 جولائی , 2026
Diesel price increased by Rs 3.37; petrol price reduced by Rs 1 per litre.

ڈیزل 3روپے 37پیسے مہنگا ،پٹرول ایک روپیہ فی لٹر سستا

28 جولائی , 2026
First phase of elections in Azad Kashmir completed successfully, says Chief Election Commissioner

آزاد کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا ،چیف الیکشن کمشنر

28 جولائی , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

فیس بک ٹویٹر انسٹاگرام یوٹیوب

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Urdu
English