کیلفورینا ( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے جنوبی ٹیکساس میں متنازع زمین کے تبادلے کے خلاف مقامی قبائلی اور ماحولیاتی تنظیموں نے قانونی جنگ مزید تیز کر دی ہے۔
تنظیموں نے وفاقی عدالت میں ہنگامی درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت حتمی فیصلہ آنے تک زمین کے تبادلے کو فوری طور پر روک دے۔
معاملہ امریکی فش اینڈ وائلڈ لائف سروس اور اسپیس ایکس کے درمیان ہونے والے معاہدے کا ہے، جس کے تحت اسپیس ایکس کو 727 ایکڑ سرکاری زمین دی جا رہی ہے، جو لوئر ریو گرانڈ ویلی نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج کا حصہ ہے۔ اس کے بدلے کمپنی اپنی 683 ایکڑ زمین حکومت کے حوالے کرے گی۔
ماحولیاتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ قدرتی حیات کے محفوظ علاقے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ 1997 کے نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج سسٹم امپروومنٹ ایکٹ اور دیگر وفاقی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔
سینٹر فار بایولوجیکل ڈائیورسٹی کے نمائندے لائیکن جورڈال نے کہا کہ وفاقی حکام عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی عوامی زمین دنیا کی امیر ترین کمپنیوں میں سے ایک کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر یہ زمین ایک بار اسپیس ایکس کو منتقل ہو گئی تو عوام اسے ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔
یہ زمین اسٹار بیس کے قریب واقع ہے، جہاں اسپیس ایکس اپنے اسٹارشپ راکٹ کی تیاری اور آزمائشی پروازیں کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اسٹارشپ مستقبل میں چاند اور مریخ سمیت گہرے خلائی مشنز کے لیے بنیادی راکٹ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ نے ایٹمی گھڑی خلا میں پہنچا دی
تاہم ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ راکٹ لانچز سے محفوظ جنگلی حیات شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق 2024 کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ ایک راکٹ لانچ کے بعد لانچ سائٹ کے قریب زیر نگرانی تمام ساحلی پرندوں کے گھونسلوں میں انڈے یا تو تباہ ہو گئے یا انہیں نقصان پہنچا۔
تنظیموں نے یہ بھی اعتراض اٹھایا ہے کہ منتقل کی جانے والی زمین کا کچھ حصہ پالمیٹو رینچ بیٹل فیلڈ نیشنل ہسٹورک لینڈ مارک میں شامل ہے، جہاں امریکی خانہ جنگی کی آخری لڑائی لڑی گئی تھی، اس لیے یہ معاہدہ نیشنل ہسٹورک پریزرویشن ایکٹ کی بھی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
مدعی تنظیموں کا مزید کہنا ہے کہ معلومات کے حصول کے قانون کے تحت حاصل ہونے والے سرکاری ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی منتقلی کی منصوبہ بندی اپریل 2025 سے خفیہ طور پر جاری تھی، حالانکہ اسے عوام کے سامنے مارچ 2026 میں پیش کیا گیا۔












