اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) حکومت نے ایک کھرب 15 ارب روپے مالیت کے 16 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی، جن میں لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبہ اور تربیلا ففتھ ایکسٹینشن پراجیکٹ بھی شامل ہیں۔
ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل، یعنی ایکنک نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں ان منصوبوں کی منظوری دی۔ منظور کیے گئے منصوبوں میں تاخیر اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو پورا کرنے کے لیے مجموعی طور پر 320 ارب روپے کے اضافی اخراجات بھی شامل ہیں۔
ایکنک نے 407 ارب روپے کے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے کی منظوری دی۔ منصوبے کے پہلے پیکیج میں لاہور رنگ روڈ سے راجہ جنگ انٹرچینج تک 18.5 کلومیٹر سڑک شامل ہے، جس پر 49 ارب روپے لاگت آئے گی۔
حکومت نے وزیراعظم کی رواں برس مارچ کی ہدایت کے مطابق منصوبے کی اصل 295 کلومیٹر الائنمنٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باقی حصوں کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قابل عمل حصوں کی فنانسنگ کے امکانات تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے کی لاگت میں حیران کن اضافہ کرتے ہوئے اسے 82 ارب روپے سے بڑھا کر 316 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ یوں منصوبے کی لاگت میں 282 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
منصوبے میں لاگت بڑھنے کے ساتھ انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے منصوبے کے انتظام، شفافیت اور نگرانی کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے کے ڈاؤن اسٹریم کوفرڈیم کے انہدام کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ واقعہ سیلاب کے باعث نہیں بلکہ ڈیزائن میں تبدیلی، ناکافی نگرانی اور انتظامی اقدامات میں تاخیر کے باعث پیش آیا، جس سے منصوبے میں تاخیر اور مالی نقصان ہوا۔
وزارت خزانہ نے بھی منصوبے کی لاگت میں 282 فیصد اضافے پر وضاحت طلب کی تھی اور چونکہ منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مالی معاونت سے جاری ہے، اس لیے واپڈا سے قرضوں کی واپسی کا طریقہ کار بھی طلب کیا گیا تھا۔ تاہم ایکنک نے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری دے دی۔
ایکنک نے خوازہ خیلہ، بشام ایکسپریس وے کی 48 کلومیٹر سڑک کو 116.6 ارب روپے کی نظرثانی شدہ لاگت سے منظور کیا، جو اصل تخمینے سے 47 فیصد زیادہ ہے۔
گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر سے ملانے والے بین الصوبائی رابطہ منصوبے کی بھی منظوری دی گئی، جس کی لاگت 29 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح میرپور، اسلام گڑھ روڈ پر رتھوا ہریام پل کی لاگت 1.4 ارب روپے سے بڑھا کر 10.8 ارب روپے کر دی گئی۔
لاہور میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے 56.6 ارب روپے، جبکہ جنوبی پنجاب کے 10 اضلاع میں غربت کے خاتمے کے منصوبے کے لیے 29.7 ارب روپے منظور کیے گئے۔ اس منصوبے کی لاگت میں بھی 6.8 ارب روپے کا اضافہ شامل ہے۔
ایکنک نے 10.6 ارب روپے کے فل برائٹ اسکالرشپ پروگرام کی بھی منظوری دی، جس کے تحت مجموعی طور پر 816 اسکالرشپس دی جائیں گی، جن میں 550 ایم ایس اور 141 پی ایچ ڈی اسکالرشپس شامل ہیں۔
سندھ کے ضلع قمبر شہدادکوٹ میں مزارانی ڈیم کے لیے 16.1 ارب روپے، جبکہ بلوچستان کے وندر ڈیم کے لیے 21.6 ارب روپے منظور کیے گئے۔ واشک کے مشکیل ڈیم کے لیے بھی 41 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔
بجلی کے شعبے میں بھی متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے 24 ارب روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے 19 ارب روپے اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے 30.2 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے گئے۔
پنجاب میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے کو جدید بنانے کے لیے 28 ارب روپے کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد نوجوانوں کو روزگار کے لیے بہتر مہارتیں فراہم کرنا ہے۔












