اسلام آباد (پاک ترک نیوز )وفاقی حکومت نے ملک میں 10 روپے کا کرنسی نوٹ مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، جبکہ اسٹیٹ بینک نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن فائنل کرنے میں مصروف ہے۔
قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں نئے نوٹوں کی تیاری میں تاخیر پر اسٹیٹ بینک حکام کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ دو سال قبل انہوں نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دیے تھے، جن میں سے ایک جعلی تھا، لیکن اسٹیٹ بینک حکام جعلی نوٹ کی نشاندہی نہ کرسکے۔
سلیم مانڈوی والا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دو سال گزر گئے، اسٹیٹ بینک نے وہ تینوں نوٹ بھی واپس نہیں کیے، جس پر کمیٹی میں قہقہے گونج اٹھے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹ کو کنٹریکٹ دیا جاچکا ہے، مگر اسٹیٹ بینک دو سال میں نئے نوٹ تیار نہیں کرسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کا حال تو حکومت سے بھی برا ہے۔
اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ 5 ہزار روپے کا نوٹ تقریباً 20 سال پہلے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اب ایسا ڈیزائن تیار کیا جارہا ہے جو آئندہ 20 سال کے لیے موزوں ہو۔
حکام کے مطابق 10 روپے کا نوٹ مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز ہے کیونکہ اس کی تیاری کی لاگت زیادہ پڑتی ہے۔ نئے نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز بھی شامل کیے جارہے ہیں۔
رکن کمیٹی انوشہ رحمان نے سوال اٹھایا کہ اسٹیٹ بینک نئے نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال کیوں نہیں کرتا؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ منظوری کے موجودہ طویل طریقہ کار کے باعث مزید وقت لگ سکتا ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے بھی طنزیہ انداز میں کہا کہ جس رفتار سے نئے نوٹ ڈیزائن کیے جارہے ہیں، خدشہ ہے ہماری کمیٹی کی مدت ختم ہوجائے گی مگر نئے نوٹ نہیں بن پائیں گے۔
اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے نوٹ کی تیاری پر تقریباً 14 روپے لاگت آتی ہے، جبکہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کو کابینہ کمیٹی حتمی شکل دے رہی ہے۔






