لاہور( پاک ترک نیوز ) کینسر کے خلاف جنگ میں سائنسدانوں نے ایسا تجربہ کر دکھایا ہے جس نے طبی دنیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
عام سا پروبائیوٹک بیکٹیریا اب کینسر کے ٹیومر کے اندر پہنچ کر دوا بنانے والی فیکٹری بن گیا!خاص طور پر لبلبے کے کینسر کے علاج میں یہ نئی تحقیق مستقبل کی امید بن سکتی ہے۔لبلبے کا کینسر۔۔ان سرطانوں میں شمار ہوتا ہے جن کا علاج انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔۔کیونکہ اس کے ٹیومر کے گرد ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں جسم کا مدافعتی نظام مؤثر انداز میں کینسر پر حملہ نہیں کر پاتا۔لیکن اب سائنسدانوں نے اسی کمزوری کو نشانہ بنا لیا ہے!یونیورسٹی آف شکاگو کے محققین نے ایک خاص پروبائیوٹک بیکٹیریا BifidoSumIL-2 تیار کیا ہے۔۔
یہ بیکٹیریا آنتوں میں پائے جانے والے ایک قدرتی جرثومے سے تیار کیا گیا ہے۔اور اس کی خاص بات؟یہ ایسے ماحول میں زندہ رہ سکتا ہے جہاں آکسیجن انتہائی کم ہو۔۔بالکل وہی ماحول جو کینسر کے ٹیومر کے اندر پایا جاتا ہے۔یعنی سائنسدانوں نے بیکٹیریا کو ایسے پروگرام کردیا کہ وہ صحت مند ٹشوز سے نکل کر کینسر کے ٹیومر تک پہنچے۔۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر کے بعد بال رنگوانے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جان لیں
اور پھر وہیں بیٹھ کر کینسر کے خلاف مدافعتی دوا تیار کرے!یوں یہ ننھا سا بیکٹیریا۔۔ٹیومر کے اندر ایک مائیکروسکوپک دوا ساز فیکٹری بن جاتا ہے۔ تحقیق کے دوران جانوروں پر تجربات کیے گئے۔۔بیکٹیریا نے ٹیومر کے اندر پہنچ کر کینسر سے لڑنے والے ٹی سیلز کو متحرک کیا۔۔جس سے لبلبے کے ٹیومر کی بڑھوتری سست پڑ گئی۔لیکن اصل حیرت اس وقت ہوئی۔۔جب اس تجرباتی علاج کو کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور امیونو تھراپی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔نتائج پہلے سے زیادہ بہتر سامنے آئے۔۔ٹیومر پر قابو پانے کے امکانات بڑھے اور جانوروں کی بقا میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روایتی مدافعتی علاج کے مقابلے میں اس طریقے کا مقصد دوا کو پورے جسم میں پھیلانے کے بجائے۔۔براہِ راست کینسر کے گھر تک پہنچانا ہے!۔۔یعنی جہاں بیماری۔۔وہیں دوا!
لیکن ٹھہریے!
یہ ابھی کینسر کا حتمی علاج نہیں۔۔کیونکہ یہ تجربات فی الحال صرف جانوروں پر کیے گئے ہیں اور انسانوں پر اس کی آزمائش باقی ہے۔اگر انسانی آزمائشوں میں بھی یہی نتائج سامنے آگئے۔۔تو ممکن ہے مستقبل میں کینسر سے لڑنے کے لیے دوائی کی گولی نہیں، بلکہ دوا بنانے والے بیکٹیریا جسم کے اندر بھیجے جائیں!












