لاہور( پاک ترک نیوز) کینسر کا علاج مکمل ہونے کے بعد جب مریض کے بال دوبارہ اگنا شروع ہوتے ہیں تو یہ صحت میں بہتری اور معمولاتِ زندگی کی طرف واپسی کی خوش آئند علامت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر بالوں کو رنگنے کے حوالے سے احتیاط برتنا انتہائی ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے بعد سر کی جلد اور نئے اگنے والے بال کافی عرصے تک حساس رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے فوری طور پر مستقل ہیئر کلر یا کیمیائی رنگ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے جلد میں جلن، الرجی یا بالوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے سے پہلے کم از کم چھ ماہ انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے، تاہم ہر مریض کی صحت اور علاج کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر وقت تھکن، بالوں کا جھڑنا اور کمزوری؟ خواتین کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ اگر ہیئر کلر استعمال کرنا ناگزیر ہو تو ایسی مصنوعات کا انتخاب کیا جائے جن میں سخت کیمیکلز کم ہوں۔ بالوں پر کوئی بھی نئی پروڈکٹ لگانے سے پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر ٹیسٹ کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
قدرتی متبادل، جیسے خالص مہندی یا جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ رنگ، بعض افراد کے لیے نسبتاً محفوظ انتخاب ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان میں مصنوعی کیمیکلز شامل نہ ہوں۔ پھر بھی ان کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے صحت یابی کے بعد بالوں کی مناسب دیکھ بھال، متوازن غذا اور طبی ہدایات پر عمل نئے بالوں کو مضبوط اور صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔







