قاہرہ(پاک ترک نیوز) قطر کے خودمختار ویلتھ فنڈ کے رئیل اسٹیٹ ذیلی ادارے قطری دیار نے مصر کے بحیرہ روم کے شمال مغربی ساحل پر سیاحتکی سہولیات پرمشتمل ایک بڑے منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام شروع کر دیا ہے، جس میںمجموعی طور پر30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
‘عالم الروم کے نام سے موسوم منصوبے کے ابتدائی ترقیاتی مرحلے پر تقریباً 220 بلین مصری پاؤنڈتقریباً4.5 ارب ڈالر لاگت آنے کی توقع ہے۔ جبکہ اس منصوبے کی کل مالیت تقریباً 29.5 ارب ڈالر ہے۔
قطری دیارجو کہ ایک خودمختار ویلتھ فنڈ کا پراپرٹی ڈویلپمنٹ (جائیداد کی تعمیر و ترقی) کا ذیلی ادارہ ہےنے 2025 کے اواخر میں مصری حکومت کو 3.5 ارب ڈالر فراہم کیے۔ایک ماہ بعد یہ اطلاع سامنے آئی کہ کمپنی مصر کے بحیرہ روم کے ساحل پر ایک اہم اور بڑے پیمانے کے ساحلی ترقیاتی منصوبے میں 29.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ یہ مصر میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ہونے والی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری میں سے ایک ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: 2030 تک بجلی کا ترسیلی نظام جدید بنانے کا بڑا منصوبہ
مصر کی نیو اربن کمیونٹیز اتھارٹی کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ قاہرہ کی معیشت پر خلیجی ممالک کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اور یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مصری حکومت بڑھتے ہوئے قرضوں اور بجٹ کے بڑے خسارے سے نمٹنے کے لیے بیرونی مالی وسائل کے حصول کی شدید کوشش کر رہی ہے۔
اس سرمایہ کاری کا مقصد عالم الروم کوجو قاہرہ سے تقریباً 480 کلومیٹرشمال مشرق میں واقع ساحلی پٹی کا ایک خوبصورت اور قدرتی حالت میں موجود علاقہ ہے۔اسے ایک مہنگے اور سارا سال فعال رہنے والے سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے تاکہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کیا جا سکے۔
منصوبے کے ڈیزائن میں پرتعیش رہائشی مکانات، گولف کورسز، میریناز (کشتیوں کے لیے مخصوص بندرگاہیں)، تعلیمی ادارے اور عوامی بنیادی ڈھانچہ شامل ہے، جو اس دور دراز مقام کو ایک خود کفیل اور جدید شہری مرکز میں بدل دیں گے۔
اس منصوبے میں 195,000 مربع میٹر رقبے پر پھیلی مصنوعی جھیلیں بھی شامل ہوں گی جن میں تیراکی کی جا سکے گی۔زمین کا زیادہ تر حصہ کھلے مقامات کے لیے مختص کیا جائے گا جو کل ترقیاتی رقبے کا تقریباً 85 فیصد ہوگا۔اس منصوبے میں 1,000 سے زائد کمروں کی مجموعی گنجائش والے چار ہوٹلوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سہولیات، کاروباری مراکز اور غیر ملکی ریستورانوں کے قیام کی بھی منصوبہ بندی شامل ہے۔
توقع ہے کہ اس منصوبے کے پہلے مرحلے سے تقریباً 30 ہزار براہ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔












