تہران ( پاک ترک نیوز) : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو شکست تسلیم کرنے یا اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے ڈالا جانے والا کوئی بھی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، ایران اپنے حقوق اور دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ جاری رکھے گا۔
پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ اگر ایران کو زبردستی جھکانے یا اطاعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران مزاحمت کرے گا، پیچھے نہیں ہٹے گا اور سر نہیں جھکائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایران اپنے حقوق کے حصول کی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے ایسا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں جو اسرائیل کی خواہش کے مطابق ہو۔
مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ کارروائیوں کے دوران ایران کے فوجی ردعمل کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع پر مجبور کیا گیا اور ایرانی جنگجوؤں، فضائی و خلائی فورسز، فوج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور دیگر فوجی اہلکاروں نے بھرپور دفاع کیا۔
ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج کی کارروائیوں نے دنیا کو حیران کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان حقوق کا دفاع جاری رکھے گا جنہیں وہ اپنے بنیادی حقوق سمجھتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر خلیج فارس کے ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ کے ذریعے واشنگٹن اور تل ابیب خطے کے ممالک کو ایران کے خلاف صف آرا کرنا چاہتے ہیں، تاہم ایران اس عمل کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی صدر نے مسلم اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی بنیاد نہیں سمجھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور یہ محض نعرہ نہیں بلکہ ان کا حقیقی یقین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدہ ،ایران کی سعودی عرب کو دھمکییہ
پزشکیان نے ایران کے علاقائی عزائم سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے، اس کی سرزمین پر قبضہ کرنے یا اپنی سرحدیں پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے اسرائیل پر اس کے برعکس علاقائی توسیع کے عزائم رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کا ہمسایہ ہے، ان کے ساتھ مشترکہ سرحدیں رکھتا ہے اور تمام ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے۔












