نئی دہلی(پاک ترک نیوز) بھارتی پارلیمنٹ نے ایک ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت قومی نغمے ‘وندے ماترم’ کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو پہلے سے قومی ترانے ‘جن گن من’، قومی پرچم اور آئین کو حاصل ہے۔
یہ بل وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پارلیمنٹ میں پیش کیا ، جسے حکومت نے کثرت رائے سے منظور کروا لیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل اب صدرِ جمہوریہ کی توثیق کا منتظر ہے، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد کسی مذہب، فرد یا نظریے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قومی نغمے کے وقار اور قومی یکجہتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق ‘وندے ماترم’ بھارت کی آزادی کی تحریک کی اہم علامت رہا ہے، اس لیے اسے قومی ترانے کے مساوی قانونی تحفظ دیا جانا چاہیے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بل کو مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘وندے ماترم’ کے بعض حصوں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر موجود ہے، اس لیے حکومت اس قانون کے ذریعے اقلیتوں پر ایک مخصوص مذہبی تصور مسلط کرنا چاہتی ہے۔
کانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام بھارت کے سیکولر آئینی ڈھانچے اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم ہے۔












