لاہور( پاک ترک نیوز) برصغیر کی موسیقی کی دنیا پر کئی دہائیوں تک راج کرنے والی عظیم گلوکارہ ملکۂ ترنم نور جہاں کی آج 100ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ اپنی منفرد آواز، دلکش انداز اور بے مثال فنی صلاحیت کے باعث نور جہاں کو برصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔نور جہاں نے اپنے طویل فنی سفر کے دوران اردو، پنجابی اور دیگر زبانوں میں سیکڑوں یادگار گیت گائے، جو آج بھی موسیقی کے شائقین میں مقبول ہیں۔
ملکۂ ترنم نور جہاں نے تقریباً 65 برس پر محیط فنی سفر میں چار نسلوں کے سامعین کو اپنی آواز کے سحر میں مبتلا رکھا۔ ان کی گائیکی میں محبت، خوشی، درد، جدائی اور وطن سے وابستگی سمیت زندگی کے مختلف رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔نور جہاں نے صرف گلوکاری ہی نہیں بلکہ اداکاری کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے متعدد فلموں میں اداکاری کی اور اپنی آواز اور اداکاری دونوں سے فلمی دنیا میں منفرد شناخت بنائی۔1965 کی جنگ کے دوران نور جہاں کے ملی نغموں نے قومی جذبے کو مہمیز دی۔ ان کے جوشیلی آواز میں گائے گئے ملی نغموں نے محاذوں پر موجود جوانوں کے حوصلے بلند کیے اور قوم میں جذبۂ حب الوطنی کو مزید تقویت دی۔نور جہاں کے گائے ہوئے ملی نغمے آج بھی قومی تقریبات اور خصوصی مواقع پر سنائی دیتے ہیں، جبکہ ان کے فلمی اور صوفیانہ گیت بھی موسیقی کے شائقین میں مقبول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اردو قوالی کے درخشاں ستارے مقبول احمد صابری کی 15ویں برسی
نور جہاں نے موسیقی کے کئی ادوار دیکھے اور بدلتے زمانے کے ساتھ اپنی آواز کی کشش برقرار رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گیت آج بھی نئی نسل کے سامعین تک پہنچ رہے ہیں۔ملکۂ ترنم نور جہاں 23 دسمبر 2000 کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں، لیکن ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔










