لاہور( پاک ترک نیوز) شدید گرمی کے موسم میں اگر ائیر کنڈیشنر دستیاب نہ ہو تو ایک عام الیکٹرک پنکھا بھی درست انداز میں استعمال کرنے سے خاصی حد تک راحت فراہم کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پنکھے کی مناسب جگہ، ہوا کی درست سمت اور کھڑکیوں کا صحیح استعمال کمرے کو نسبتاً ٹھنڈا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دن کے اوقات میں، جب باہر کا درجہ حرارت زیادہ ہو، کھڑکیاں اور دروازے بند رکھنا بہتر ہوتا ہے تاکہ گرم ہوا اندر داخل نہ ہو۔ جن کمروں پر براہِ راست دھوپ پڑتی ہو، وہاں پردے یا بلائنڈز بند رکھنے سے گرمی کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔
رات کے وقت جب بیرونی ماحول نسبتاً ٹھنڈا ہو جائے تو کھڑکی کھول کر پنکھا اس طرح رکھیں کہ ٹھنڈی ہوا کمرے کے اندر آئے، جس سے قدرتی انداز میں بہتر ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ بھی اے سی بند کرکے فوراً دوبارہ چلا دیتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پنکھا صرف چہرے کی طرف رکھنے کے بجائے ایسے مقام پر رکھا جائے جہاں اس کی ہوا پورے جسم تک پہنچ سکے۔ اس سے پسینہ جلد بخارات بن کر جسم کو زیادہ مؤثر طریقے سے ٹھنڈا کرتا ہے۔
گرمی سے بچنے کے لیے پانی کا مناسب استعمال، ہاتھوں کو ٹھنڈا رکھنا اور نیم گرم پانی سے غسل کرنا بھی جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں پر پنکھے کی تیز ہوا براہِ راست نہ ڈالی جائے، کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی کمی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ بچوں کے لیے پنکھا صرف کمرے میں ہوا کی گردش برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا معمول کا درجہ حرارت تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ جلد کا درجہ حرارت تقریباً 34 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اگر کمرے کا درجہ حرارت اس سے کم ہو تو پنکھا جسم سے حرارت خارج کرنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے، تاہم اگر درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو صرف پنکھے پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر حفاظتی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہییں۔












