اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) امن کی راہ پر بڑھتے قدم اچانک کیوں رک گئے؟ سوئٹزرلینڈ میں آج ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات آخری لمحوں میں ملتوی کر دیئے گئے۔۔۔ برگن اسٹاک کے خوبصورت پہاڑوں میں سجی سفارتی میز خالی رہ گئی۔۔۔ دنیا جس ملاقات کو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا اگلا سنگِ میل قرار دے رہی تھی، وہ اچانک مؤخر ہو گئی۔۔۔ کیا یہ صرف انتظامی مسئلہ ہے یا پردے کے پیچھے کوئی بڑا سفارتی اختلاف جنم لے چکا ہے؟
سوئس وزارتِ خارجہ نے مختصر مگر چونکا دینے والا اعلان کیا۔۔۔ امریکہ اور ایران کے درمیان آج طے شدہ مذاکرات نہیں ہوں گے۔۔۔ وزارت نے بتایا کہ مذاکرات کا نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا، تاہم ملتوی ہونے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔۔۔ یہی خاموشی اب سفارتی حلقوں میں نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
برگن اسٹاک ریزورٹ میں دونوں ممالک کے وفود کی ملاقات متوقع تھی۔۔۔ جنگ بندی کے بعد یہ پہلا بڑا رابطہ ہونا تھا جہاں 14 نکاتی امن معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر گفتگو ہونی تھی۔۔۔ ذرائع کے مطابق اقتصادی پابندیوں، منجمد اثاثوں، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور علاقائی استحکام جیسے اہم معاملات زیر بحث آنے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد روانگی کے لیے تیار تھا۔۔۔ لیکن پیچیدہ انتظامی اور تکنیکی معاملات کے باعث دورہ مؤخر کر دیا گیا۔۔۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن جلد از جلد تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کا خواہاں ہے اور امن معاہدے پر پیشرفت جاری رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی حکام سوئٹزرلینڈ میں ایک رسمی تقریب کے بھی حامی تھے جہاں معاہدے کی کامیابی کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جاتا۔۔۔ تاہم ایرانی مؤقف مختلف نکلا۔۔۔ تہران نے واضح کر دیا کہ جب دونوں ممالک معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں تو اب کسی اضافی تقریب کی ضرورت نہیں۔۔۔ یہی اختلاف بعض مبصرین کے نزدیک آج کی ملتوی شدہ ملاقات کی ایک ممکنہ وجہ بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوئٹزرلینڈ میں آج ہونے والے امریکا ایران مذاکرات منسوخ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ بندی کے بعد خطے میں نسبتاً سکون دیکھنے میں آ رہا ہے۔۔۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہو چکی ہے۔۔۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔۔۔ لیکن مذاکرات کے التوا نے ایک بار پھر خدشات کو جنم دے دیا ہے کہ کہیں اعتماد کی یہ نازک فضا متاثر نہ ہو جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کے سینکڑوں ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کی واپسی ایران کے طرزِ عمل سے مشروط ہو گی۔۔۔ دوسری جانب تہران بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ مذاکرات کا مطلب امریکی شرائط تسلیم کرنا نہیں۔۔۔ یہی وہ حساس نکات ہیں جو آئندہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گے۔
برگن اسٹاک میں امن کی میز تو خالی رہ گئی، مگر سوالات پہلے سے زیادہ بھر گئے ہیں۔۔۔ کیا یہ محض وقتی تعطل ہے؟ کیا تکنیکی رکاوٹیں دور ہوتے ہی مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں گے؟ یا پھر معاہدے کے بعد سامنے آنے والے اختلافات امن کے سفر کو مشکل بنا دیں گے؟ دنیا اب اگلی تاریخ کی منتظر ہے۔۔۔ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے امن کا اگلا باب ابھی لکھا جانا باقی ہے۔












