اسلام آباد (پاک ترک نیوز )ایشیائی ترقیاتی بینک کی پالیسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس وہ صنعتی صلاحیت، برآمدی تنوع اور پیداواری استعداد موجود نہیں جو اسے ترکیہ کی طرح طویل عرصے تک بلند مہنگائی کے اثرات برداشت کرنے کے قابل بنا سکے۔
رپورٹ کے مطابق صرف مہنگائی کی شرح کو بنیاد بنا کر مختلف معیشتوں کا موازنہ کرنا گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی مضبوطی کا اصل دارومدار اس کی صنعتی بنیاد، برآمدی مسابقت، پیداواری صلاحیت، لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور مالیاتی استعداد پر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی صنعتی بنیاد نسبتاً کمزور ہے، جس کی وجہ سے وہ مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ترکیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت سے کرتا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ "Beyond Inflation: Industrial Capability and External Resilience in Pakistan and Türkiye” میں دونوں ممالک کی معیشتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معاشی مسائل صرف مالیاتی یا عارضی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر ساختی کمزوریوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی معیشت غیرمعمولی مہنگائی کے باوجود ترقی کرتی رہی کیونکہ اس کے پاس ایک مضبوط اور متنوع صنعتی ڈھانچہ موجود ہے، جبکہ پاکستان محدود برآمدی ڈھانچے اور کمزور صنعتی صلاحیت کی وجہ سے اسی نوعیت کی مہنگائی میں شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ کا مینوفیکچرنگ سیکٹر آٹوموبائل، مشینری اور جدید صنعتی مصنوعات پر مشتمل ہے، جبکہ پاکستان اب بھی بڑی حد تک ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات اور فوڈ پروسیسنگ جیسے روایتی شعبوں پر انحصار کرتا ہے۔
یہ تین شعبے پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 73 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں، جو برآمدی تنوع کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی کرنسی کی بار بار قدر میں کمی کے باوجود عالمی برآمدات میں پاکستان کا حصہ تقریباً 0.2 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ شرح مبادلہ میں کمی دونوں ممالک پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے۔ ترکیہ میں کمزور کرنسی برآمدات اور زرمبادلہ کی آمدن بڑھانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ وہاں کی صنعتیں فوری طور پر پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکتی ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان میں کرنسی کی قدر میں کمی سے درآمدی ایندھن، مشینری، خام مال اور دیگر ضروری اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو پاتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا برآمدی شعبہ اتنا وسیع نہیں کہ بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کا ازالہ زیادہ برآمدات کے ذریعے کر سکے۔
مالیاتی استعداد کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 17 سے 18 فیصد کے درمیان ہے، جو پاکستان کے 9 سے 10 فیصد کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ کو صنعتوں کی معاونت، معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے اور مؤثر معاشی پالیسیاں نافذ کرنے کے لیے زیادہ گنجائش حاصل ہے۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ترکیہ مسلسل زیادہ اور مستحکم غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرتا رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ حکمرانی، لیبر مارکیٹ اور مالیاتی ضوابط میں اصلاحات ہیں۔
ان سرمایہ کاریوں نے ترک کمپنیوں کو عالمی ویلیو چینز کا حصہ بننے اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں مدد دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم نسبتاً کم ہے، جس کے باعث جدید ٹیکنالوجی، انتظامی مہارت اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی محدود رہتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کو سنگین بیرونی مالیاتی بحرانوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترسیلات زر پاکستان کی جی ڈی پی کے 6 سے 9 فیصد تک کے مساوی رہی ہیں۔
تاہم ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ترسیلات زر صنعتی ترقی اور برآمدات پر مبنی معاشی تبدیلی کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر اگرچہ کھپت کو سہارا دیتی ہیں اور معاشی جھٹکوں کے اثرات کم کرتی ہیں، لیکن وہ براہ راست صنعتی استعداد، پیداواری ترقی یا برآمدی مسابقت پیدا نہیں کرتیں۔
رپورٹ میں لاجسٹکس اور رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ترکیہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتا ہے، جبکہ جدید بندرگاہیں، ریل نیٹ ورک اور مربوط سپلائی چینز اس کی صنعتی برتری کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور سمندری بندرگاہوں تک رسائی کے باوجود نقل و حمل کی رکاوٹوں، کمزور لاجسٹکس نظام اور بلند تجارتی لاگت جیسے مسائل سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے وہ برآمدی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں ناکام رہتا ہے۔












