تہران ( پاک ترک نیوز) ایران اور امریکا کو ایک میز پر لانے کے لیے پاکستان متحرک ہو گیا ، تہران اور واشنگٹن کے درمیان پسِ پردہ سفارتکاری میں تیزی آ گئی ۔ امریکی مسودہ پاکستان کے ذریعے ایران پہنچا دیا گیا۔۔۔ وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔۔۔ خطے میں بڑی ڈیل کے امکانات روشن مگر کئی رکاوٹیں اب بھی برقرار ہیں ۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران امریکا مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کا سفارتی کردار مزید اہم ہو گیا ہ ۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے نئے ممکنہ معاہدے کا مسودہ پاکستان کے ذریعے ایران کو بھجوا دیا ہے جبکہ تہران میں سیاسی اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکا کی جانب سے بھیجے گئے مجوزہ مسودے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی سے اہم ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں ایران امریکا بالواسطہ مذاکرات، سفارتی اقدامات، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے سیاسی مشاورت جاری رکھنے اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک اس وقت پیغامات اور مجوزہ نکات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کے لیے باضابطہ فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
اس سے قبل ایک ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا تھا کہ مذاکرات کار کسی ممکنہ ڈیل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور معاہدے کے مسودے پر کام جاری ہے۔
تاہم مذاکراتی عمل میں اب بھی کئی اہم رکاوٹیں موجود ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورینیم ذخائر باہر بھیجنے سے ایران مستقبل میں ممکنہ حملوں کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے۔
ایران کے ایک سینیئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، اگرچہ دونوں فریقین کے اختلافات میں کچھ کمی ضرور آئی ہے۔ ایرانی یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول اب بھی مذاکرات کی بڑی رکاوٹیں سمجھے جا رہے ہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات سے متعلق محتاط امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران معاملے پر کچھ مثبت اشارے ملے ہیں اور پاکستانی حکام کے تہران جانے سے بہتر پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی ترجیح ہمیشہ ایک اچھی ڈیل کرنا ہے، تاہم اگر مناسب معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول یا نئی کشیدگی ایران امریکا معاہدے کو ناقابلِ عمل بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ پُرامید نہیں ہونا چاہتے اور آئندہ چند روز میں ہونے والی پیش رفت انتہائی اہم ہو گی۔
پاکستان کی ثالثی میں جاری یہ سفارتی کوششیں مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔۔۔ تاہم یورینیم افزودگی، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات اب بھی کسی بڑی ڈیل کی راہ میں سب سے بڑی آزمائش بنے ہوئے ہیں۔۔۔












