آک لینڈ ( پاک ترک نیوز) نیوزی لینڈ ٹیم کے سابق کپتان کین ولیمسن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ۔
تفصیلات کے مطابق کین ولیمسن نے فوری طور پر ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ ہے جس سے نہ صرف ان کے 16 سالہ کامیاب عالمی کیریئر کا اختتام ہو گیا بلکہ وہ انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز کے بقیہ دو میچز میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔
کین ولیمسن نیوزی لینڈ کی ٹیسٹ تاریخ کے کامیاب ترین بلے باز کے طور پر ریٹائر ہوئے ہیں۔
عالمی کرکٹ سے کین ولیمسن کی ریٹائرمنٹ کے بعد سنہرا دور ختم ہو گیا ۔ کیوی مایہ ناز بلے باز نے 2010میں بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیاتھا ۔ ان کا شمار دنیا کے بہترین بلے بازوں میں ہوتا تھا ۔ان کا موازنہ ویرات کوہلی ، سٹیو سمتھ ، جوئے روٹ کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔
بلاشبہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے متعدد مواقعوں پر نیوزی لینڈ کیلئے فتح گر اننگز کھیلیں ۔
2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ولیمسن نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کیا اور نیوزی لینڈ کو مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچایا، اگرچہ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف شکست ہوئی تاہم ان کے طرز عمل اور کھیل کے جذبے کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔
ولیمسن نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز بھارت کے خلاف سنچری سے کیا اور کم عمری میں نیوزی لینڈ کے تیز ترین 3000 ٹیسٹ رنز مکمل کرنے والے بلے باز بن گئے، کین ولیمسن نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 19 ہزار 346 رنز اسکور کیے، جن میں 48 سنچریاں شامل ہیں۔
ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے 2021 میں پہلی مرتبہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیت کر تاریخ رقم کی، اسی سال کیوی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل تک بھی پہنچی۔
آئی پی ایل میں بھی کین ولیمسن نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، 2018 میں سن رائزرز حیدرآباد کی قیادت کرتے ہوئے 735 رنز بنا کر اورنج کیپ حاصل کی اور ٹیم کو فائنل تک پہنچایا، وہ آئی پی ایل کی تاریخ میں اورنج کیپ جیتنے والے پہلے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی بنے۔
کین ولیمسن کو نہ صرف ایک عظیم بلے باز بلکہ ایک مثالی کپتان، بہترین فیلڈر اور کھیل کے حقیقی سفیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ان کی ریٹائرمنٹ عالمی کرکٹ کے ایک یادگار دور کے خاتمے کے مترادف ہے۔







