اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) وفاقی وزیر خزانہ محمداورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں ، اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا
وزیراعظم شہبازشریف ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی بجٹ اجلاس میں شریک ہیں ،وزیراعظم شہباز شریف کی آمد پر ممبران نے استقبال کیا
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا ،ارکان نے نعرے لگائے جس سے ایوان مچھلی منڈی بن گئے ،پی ٹی آئی ارکان نے ایوان میں بینر اٹھا رکھے ہیں
وزیر خزانہ نے کہا یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس معزز ایوان کے سامنے بجٹ پیش کر رہا ہوں ،میں میاں محمد نواز شریف ، بلاول بھٹو زرداری ، خالد مقبول صدیقی ،چوہدری شجاعت حسین ، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا شکریہ ادا کرتا ہوں
وزیر خزانہ نے کہا یہ بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے ۔ یہ تبدیلی اتفاقاً نہیں آئی ،اس کا آغاز گذشتہ برس ہی ہوا جب بھارتی جارحیت کو پاکستان کی جانب سے ایسا جواب ملا کہ پوری دنیا کو فوٹس لینا پڑا۔
وزیر خزانہ نے کہا ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں امن کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ کا میابی دنیا کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا تیجہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہماری دفاعی صنعت زر مبادلہ کمانے کا ذریعہ بن چکی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نہ صرف ہماری سالمیت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا پچھلے مہینوں میں خدا نے بزرگ و برتر نے پاکستان کو ایک بہت مثال کامیابی دلائی ہے۔ موجودہ دور کی ایک خطرناک ترین جنگ کے دوران امریکا اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنے درمیان ایک ایماندار ثالث کے طور پر قبول کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا پاکستان کی کوشش ہے کہ جلد ایک معاہدے کے ذریعے خطے میں دیرپا امن کے قیام کو ممکن بنایا جائے اور آئے ہرمز سے تیل کی سپلائی پہلے کی طرح بحال کی جائے۔
وزیر خزانہ نے کہا امریکی اور ایرانی صدر نے متعدد بار وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بطور ثالث اہم کردار کی تعریف کی ہے۔ یہ وہ فقیہد المثال کامیابی ہے جس سے قوموں کی برادری میں ہمارا احترام اور وقار بڑھا ہے اور ہماری کاوشوں کو ہر صحیح اور فورم پر سراہا گیا ہے۔









