لاہور( پاک ترک نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی بیٹھک پھر سجنے والی ہے،دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے فیصلہ کن گھڑی قریب آ گئی ،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان پہنچ گئے اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گا،، امریکی وفد کا بھی آج پاکستان کے لیے روانہ ہو گا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ک استقبال کیا،، ایرانی وفد وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کرے گا،، اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، اپنے بھائی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کرتے ہوئے خوشی ہوئی۔۔ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کےلیے با معنی مذاکرات کے منتظر ہیں۔۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد آئیں گے،، ترجمان وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی،، بتایا ایران نے مذاکرات کے لئے خود رابطہ کیا اور بالمشافہ ملاقات کی درخواست کی،، نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ میں موجود رہ کر صورتحال پر نظر رکھیں گے،، ضرورت پڑنے پر سب کو پاکستان روانگی کے لئے سٹینڈ بائی رکھا جائے گا۔
ادھر ترجمان ایرانی وزیر خارجہ اسماعیل بقائی کا کہناہے عباس عراقچی کی اسلام آباد میں امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں ،، عراقچی امن بحالی،جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی ثالثی کے تناظر میں پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔۔۔ ایران کے مشاہدات سے پاکستان کو آگاہ کیا جائے گا۔۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا امریکا ایران میں برسراقتدار لوگوں سے مذاکرات کر رہا ہے۔۔ ،،، ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے۔۔ یہ دیکھنا ہے آیا معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔۔؟۔۔۔ مزید کہا، امریکی مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران ممکنہ معاہدے کے لیے پیشکش تیار کر رہا ہے۔۔۔ برطانوی بادشاہ چارلس سوم کے دورۂ امریکا میں ایران معاملے پر بات چیت ہوگی۔۔۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ایران کے پاس اب بھی موقع ہے، مذاکرات کی میز پر ایران کو اپنا بہترین اور دانش مندی پر مبنی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ایران کو اپنا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام چھوڑنا ہوگا۔ ڈیل کے لیے ایران کے پاس یہ تاریخی موقع ہے، بال ایران کے کورٹ میں ہے۔
حالات بتاتے ہیں کہ اس بار مذاکرات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایران پر عالمی دباؤ موجود ہے جبکہ امریکہ بھی کسی قابلِ قبول معاہدے کی تلاش میں دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کا کردار یہاں نہایت اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی پاکستان نے بیک چینل ڈپلومیسی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اس بار مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ اعتماد کی کمی اور سخت شرائط رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ایک بار پھر سفارتی پل کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث یہ عمل نہایت حساس اور پیچیدہ بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی سرزمین ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بننے جا رہی ہے، جہاں اہم عالمی کھلاڑی اپنے اپنے مفادات کے ساتھ متحرک ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ سفارتی کوششیں خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کر پاتی ہیں یا نہیں۔












