لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان میں سورج آگ برسا رہا ہے،پنکھے اور اے سی نان اسٹاپ چل رہے ہیں ،جس سے بجلی کا بل بھی بڑھ رہا ہے ، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور کم آمدن والے طبقے کیلئے ماہانہ بل ادا کرنا بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ گرمی سے بھی بچا جائے اور بجلی کا بل بھی قابو میں رکھا جائے؟
ماہرین کے مطابق گھریلو بجلی کے بل میں سب سے زیادہ حصہ ایئر کنڈیشنر، فریج، واٹر پمپ، استری اور گیزر جیسے آلات کا ہوتا ہے۔ ان کے درست استعمال سے بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر اے سی استعمال کرنا ضروری ہو تو درجہ حرارت 26 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھا جائے۔ ہرایک ڈگری کم کرنے سے بجلی کی کھپت 6 سے 8 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
گھر میں ایل ای ڈی بلب استعمال کرنے سے بھی بجلی کی بچت ممکن ہے۔ ایل ای ڈی بلب روایتی بلبوں کے مقابلے میں 70 سے 80 فیصد کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ دن کے وقت قدرتی روشنی اور ہوا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔ غیر ضروری لائٹس، پنکھے اور برقی آلات بند رکھنے کی عادت بھی بل کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
فریج کو دیوار سے مناسب فاصلے پر رکھنا، اس کا دروازہ بار بار نہ کھولنا اور ٹھنڈک کا درجہ متوازن رکھنا بھی بجلی کی بچت کا مؤثر طریقہ ہے۔ استری، واشنگ مشین اور دیگر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات کو بار بار چلانے کے بجائے ایک وقت میں استعمال کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔
پرانے پنکھے، موٹرز اور برقی آلات نسبتاً زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں، اس لیے ممکن ہو تو انورٹر ٹیکنالوجی والے آلات استعمال کیے جائیں جو کم بجلی میں بہتر کارکردگی دیتے ہیں۔
گھروں کی چھتوں پر سفید رنگ یا ہیٹ پروف کوٹنگ اور کھڑکیوں پر پردے استعمال کرنے سے کمرے کا درجہ حرارت کم رہتا ہے، جس سے اے سی اور پنکھوں پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔
سولر سسٹم بھی طویل مدت میں بجلی کے اخراجات کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، اگرچہ اس کیلئے ابتدائی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ ضرور کیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ چند سادہ احتیاطی تدابیر اور توانائی کے دانشمندانہ استعمال سے ماہانہ بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ گرمی کے موسم میں بچت کا ہر یونٹ نہ صرف جیب پر بوجھ کم کرتا ہے بلکہ قومی توانائی کے وسائل کو محفوظ رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔












