لاہور( پاک ترک نیوز) گردے کی پتھری، ایک ایسا مسئلہ جو اچانک شدید درد کی صورت میں سامنے آتا ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ یہ بنتی کیوں ہے؟ اور کیا دیسی طریقوں سے اس کا علاج ممکن ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق گردے میں پتھری اس وقت بنتی ہے جب پیشاب میں موجود نمکیات اور منرلز جمع ہو کر سخت شکل اختیار کر لیتے ہیں۔پانی کم پینا، زیادہ نمک اور گوشت کا استعمال، اور کیلشیم یا یورک ایسڈ کی زیادتی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔یہ مسئلہ گردے کی پتھری کے نام سے جانا جاتا ہے، جو بعض اوقات شدید درد، متلی اور پیشاب میں جلن کا باعث بنتا ہے۔
جس آدمی کے گردے میں پتھری ہو اس کی علامات میں کمر یا پہلو میں درد،پیشاب میں جلن یا شدید درد ،بار بار پیشاب کا آنا ،متلی یا قے ہو سکتی ہے ۔
ماہرین کے مطابق پتھری سے نجات حاصل کرنے کے لیے دن میں آٹھ سے دس گلاس پانی پیئیں ، لیموں میں موجود سٹرک ایسڈ پتھری کو توڑنے میں مدد دیتا ہے جو کا پانی گردوں کی صفائی میں مفید سمجھا جاتا ہے ،کلونجی اور شہد کے استعمال سے بھی آفاقہ آ سکتا ہے پودینہ اور تلسی کا استعمال پیشاب کی روانی بہتر کرتا ہے ۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر پتھری بڑی ہو یا درد شدید ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ بعض کیسز میں سرجری بھی کرنی پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کا زیادہ استعمال اور متوازن غذا ہی گردے کی پتھری سے بچاؤ کا سب سے آسان اور مؤثر طریقہ ہے، کیونکہ احتیاط، علاج سے بہتر ہے۔اپنی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ چھوٹی لاپرواہی بڑا درد بن سکتی ہے۔












