لندن (پاک ترک نیوز )برطانیہ میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی سانس کی نالی کے وائرل انفیکشنز کے پھیلاؤ میں اضافہ ہونے لگا ہے، جبکہ اسپتالوں میں فلو کے مریضوں کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق کووڈ انیس اور موسمی فلو سمیت مختلف وائرسز کے پھیلاؤ کے باعث طبی مراکز پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بالخصوص معمر افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کرانے کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق سرد موسم میں لوگوں کا بند جگہوں پر زیادہ وقت گزارنا اور درجہ حرارت میں کمی وائرسز کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے باعث انفیکشن تیزی سے منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق سرد موسم میں لوگوں کا بند جگہوں پر زیادہ وقت گزارنا اور درجہ حرارت میں کمی وائرسز کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے باعث انفیکشن تیزی سے منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔محکمہ صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر اور ویکسینیشن پر مناسب توجہ نہ دی گئی تو ہنگامی طبی خدمات اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین نے شہریوں کو بروقت ویکسین لگوانے، زیادہ رش والی جگہوں پر ماسک استعمال کرنے اور ہاتھوں کی باقاعدگی سے صفائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معدنیات کی کوئی کان امریکا کے حوالے نہیں کی، صرف بات چیت جاری ہے ،خواجہ آصف
اہم وضاحت: فراہم کردہ متن میں فلو کے مریضوں میں اضافے کا ذکر ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ اضافہ صرف کووڈ انیس کے باعث ہوا ہے۔ دونوں وائرسز الگ ہیں اور ان کے اعداد و شمار کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔












