لاہور( پاک ترک نیوز) عید خوشیوں، مسکراہٹوں اور اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے کا دن ہوتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسے ہزاروں بچے بھی ہیں جن کے سروں سے ماں باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یتیم خانے میں رہنے والے یہ بچے عید کیسے مناتے ہیں؟ کیا ان کی عید بھی اتنی ہی خوشیوں بھری ہوتی ہے جتنی ہمارے گھروں میں؟
عید کی آمد کے ساتھ ہی یتیم خانوں میں بھی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ بچوں کو نئے کپڑے دیے جاتے ہیں، جوتے اور ٹوپیاں خریدی جاتی ہیں تاکہ وہ بھی عید کے دن خوشی محسوس کر سکیں۔
عید کی صبح جب یہ بچے نئے کپڑے پہن کر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں تو یتیمی کا دکھ کچھ لمحوں کے لیے کم ہوتا نظر آتا ہے۔ عید کی نماز کے بعد سب مل کر دعائیں کرتے ہیں اور پھر عیدی ملنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
کئی مخیر حضرات بھی عید کے دن یتیم خانوں کا رخ کرتے ہیں۔ کوئی بچوں کے لیے مٹھائیاں لے آتا ہے، کوئی کھانے کا اہتمام کرتا ہے اور کوئی عیدی دے کر ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ان بچوں کے دل میں کہیں نہ کہیں ماں باپ کی کمی ضرور محسوس ہوتی ہے۔ جب دوسرے بچے اپنے والدین کے ساتھ عید مناتے ہیں تو یہ بچے بھی دل ہی دل میں اپنے والدین کو یاد کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بچوں کو تنہا محسوس نہ ہونے دے۔ اگر ہم عید کے دن کچھ وقت ان بچوں کے ساتھ گزاریں تو شاید ان کی عید بھی یادگار بن جائے۔
عید صرف نئے کپڑوں اور لذیذ کھانوں کا نام نہیں بلکہ محبت اور احساس بانٹنے کا نام ہے۔ آئیے اس عید ہم کسی یتیم بچے کی خوشی کا سبب بنیں تاکہ ان کی عید بھی واقعی عید بن سکے۔












