لاہور( پاک ترک نیوز) عید خوشیوں، محبتوں اور بانٹنے کا نام ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہر گھر میں مسکراہٹیں بکھرتی ہیں، نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں اور لذیذ پکوان تیار ہوتے ہیں۔ لیکن اسی معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے لیے عید کا دن بھی عام دنوں جیسا ہی ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خوشیاں اس وقت مکمل ہو سکتی ہیں جب ہمارے اردگرد کوئی بھوکا یا اداس ہو؟
ملک بھر میں لوگ عید کی خوشیوں میں مصروف ہیں ،عید کے لیے لاکھوں کروڑوں کی شاپنگ کی گئی ،گھر گھر دسترخوان سج گئے ،ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی جا رہی ہیں ،مگر انہی گلیوں اور محلوں میں ایسے سفید پوش اور نادار لوگ بھی ہیں جو خاموشی سے عید کے دن کا انتظار تو کرتے ہیں مگر ان کے پاس خوشیاں منانے کے وسائل نہیں ہوتے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ عید صرف اپنی خوشیوں کا نام نہیں بلکہ دوسروں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھنے کا دن ہے۔ زکوٰۃ، صدقہ اور فطرانہ اسی لیے مقرر کیے گئے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہر صاحب استطاعت شخص اپنے اردگرد موجود ایک ضرورت مند خاندان کی مدد کر دے تو معاشرے میں کوئی بھی عید کے دن محرومی محسوس نہیں کرے گا۔
یتیم بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا، کسی غریب خاندان کو عید کا راشن پہنچانا یا کسی ضرورت مند بچے کو نئے کپڑے دلانا… یہ چھوٹے چھوٹے عمل کسی کی عید کو واقعی یادگار بنا سکتے ہیں۔
آئیے اس عید ہم صرف اپنی خوشیاں نہ منائیں بلکہ ان خوشیوں کو بانٹیں بھی۔ کیونکہ اصل عید تب ہی ہوتی ہے جب ہماری مسکراہٹ کے ساتھ کسی اور کے چہرے پر بھی خوشی نظر آئے۔












