واشنگٹن /تہران : (پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک موڑ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی بحری اور فضائی طاقت خطے میں منتقل کر دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے ساتھ ممکنہ نئے معاہدے کے لیے سخت ترین شرائط منوانے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ فوجی موجودگی کو بطور دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی جنگی بحری بیڑہ، جس میں جدید ایئرکرافٹ کیریئر اور میزائلوں سے لیس جنگی جہاز شامل ہیں، ایشیا پیسیفک سے روانہ ہو کر مشرقِ وسطیٰ کے حساس پانیوں میں داخل ہو چکا ہے۔
یہ بیڑہ اب امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں آپریشنل ہے۔امریکی حکمتِ عملی کے تحت ایران کے سامنے چار بنیادی مطالبات رکھے گئے ہیں۔
ان میں ایران کے تمام افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنا، اندرونِ ملک یورینیم افزودگی کے عمل کو مکمل طور پر روکنا، طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا، اور خطے میں سرگرم ایران نواز گروہوں سے ہر قسم کا تعاون ختم کرنے کی ضمانت شامل ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کے جوہری اور عسکری اثر و رسوخ کو قابو میں لانا اور خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچانا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق یہ شرائط ایران کے لیے ناقابلِ قبول ہو سکتی ہیں۔
امریکی میڈیا نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کو اقتصادی طور پر گھیرنے کے لیے نیول بلاکیڈ کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل برآمدات مکمل طور پر روکنا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت امریکی بحری جہاز ان ممالک کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں گے جو ایران سے تیل خریدتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ امریکا کی ایک بڑی بحری طاقت ایران کی سمت بڑھ رہی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کی نوبت نہیں آئے گی۔
امریکی دفاعی حکام کے مطابق یہ تعیناتی بظاہر دفاعی نوعیت کی ہے، مگر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری فوجی کارروائی کی مکمل صلاحیت موجود رہے گی۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ جدید جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بڑی فوجی مشق کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکی فضائی طاقت کی موجودگی اور ردعمل کی صلاحیت کو ظاہر کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ سمجھا جائے گا، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔خطے کے دیگر ممالک بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود، زمینی یا بحری راستے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، حالانکہ امریکا کا ایک اہم فضائی اڈہ الظفرہ یو اے ای میں واقع ہے، جو امریکی فوجی آپریشنز میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد واشنگٹن اور تہران کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں غیرمعمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔












