لاہور( پاک تر ک نیوز) بارہ اگست 2026 آسمان کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے غیر معمولی دن ثابت ہوگا، جب ایک ہی روز دو بڑے فلکیاتی مظاہر دیکھنے کو ملیں گے۔ دوپہر کے وقت جزوی سورج گرہن جبکہ رات کو سال کی مشہور پرسئیڈ شہابی بارش اپنے عروج پر ہوگی، جس سے شمالی امریکہ کے بعض علاقوں میں فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کو ایک منفرد تجربہ حاصل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ جزوی سورج گرہن دراصل اس مکمل سورج گرہن کا حصہ ہوگا جو مشرقی گرین لینڈ، مغربی آئس لینڈ اور شمالی اسپین میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا، جبکہ امریکہ اور کینیڈا کے شمال مشرقی علاقوں میں سورج کا کچھ حصہ چاند سے ڈھکا ہوا نظر آئے گا۔
ماہر فلکیات ٹائلر نورڈگرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور کینیڈا میں مکمل گرہن نظر نہیں آئے گا، لیکن جزوی گرہن بھی عالمی فلکیاتی واقعے کا حصہ ہوگا اور اس سے کائنات کی وسعت اور سورج، چاند اور زمین کی باہمی پوزیشن کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو بغیر حفاظتی چشمے یا مناسب سولر فلٹر کے دیکھنا آنکھوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسی طرح عام کیمرے یا دوربین سے بھی بغیر سولر فلٹر کے گرہن کی تصویر لینا محفوظ نہیں ہوگا۔
مختلف ممالک کے 10 مقامات اس نایاب منظر کے لیے بہترین قرار دیے گئے،۔کینیڈا کے گروس مورنے نیشنل پارک، نیوفاؤنڈ لینڈ پارک مشرقی شمالی امریکہ میں سورج گرہن کا سب سے واضح منظر پیش کرے گا، جہاں سورج کا تقریباً نصف حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ ساحلی علاقے، جھیلیں اور بلند مقامات شام کے گرہن اور رات کی شہابی بارش دونوں کے لیے بہترین ہیں، تاہم یہاں موسم اکثر غیر یقینی اور بادل زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا ایران،امریکہ کو مذاکرات اور سفارت کاری سے تنازع کے حل کا مشورہ
ماؤنٹ کارلٹن پروونشل پارک، نیوبرنزوک اٹلانٹک کینیڈا کے تاریک ترین آسمانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں روشنی کی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے پرسئیڈ شہابی بارش نہایت واضح دکھائی دیتی ہے۔ پارک کے کیمپ گراؤنڈز رات گزارنے والوں کے لیے موزوں ہیں۔
خلیج فنڈی کے ساحل پر واقع فنڈی نیشنل پارک، نیوبرنزوک پارک نسبتاً تاریک آسمان اور کھلے افق کی وجہ سے گرہن اور شہابی بارش دونوں کے مشاہدے کے لیے موزوں ہے، تاہم سمندری دھند اور اچانک بدلتا موسم بعض اوقات رکاوٹ بن سکتا ہے۔
کیجی مکوجک نیشنل پارک، نووا اسکاٹیا کینیڈا کے تاریک ترین محفوظ علاقوں میں شامل ہے۔ یہاں جھیلوں کے کنارے قائم کیمپ گراؤنڈز رات بھر شہابی بارش دیکھنے کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں جبکہ گرہن بھی تقریباً 30 فیصد تک دیکھا جا سکے گا۔
امریکہ کا اکیڈیا نیشنل پارک، کیڈیلاک ماؤنٹین اور شوڈک جزیرہ نما سورج گرہن دیکھنے کے لیے بہترین مقامات ہیں۔ یہاں رات کو بھی نسبتاً تاریک آسمان میسر ہوتا ہے، تاہم موسم گرما میں سیاحوں کا رش بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
کینیڈا کامونٹ میگانٹک، کیوبیک کا علاقہ شمالی امریکہ کے بہترین فلکیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں جدید رصدگاہ، محفوظ تاریک آسمان اور فلکیاتی مشاہدے کی بہترین سہولیات موجود ہیں، اگرچہ یہاں بادلوں کا امکان نسبتاً زیادہ رہتا ہے۔
نیویارک میں ایڈیرونڈیک میں جھیلیں اور بلند پہاڑ اس علاقے کو شہابی بارش کے مشاہدے کے لیے بہترین بناتے ہیں۔ یہاں روشنی کی آلودگی بہت کم ہے اور مختلف فلکیاتی ادارے خصوصی تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں۔
نیویارک شہر کے قریب کیٹس کل پہاڑیاں مختصر سفر کے خواہشمند افراد کے لیے موزوں مقام ہے۔ اگرچہ یہاں گرہن نسبتاً کم دکھائی دے گا، لیکن رات کے وقت تاریک آسمان شہابی بارش کا خوبصورت منظر پیش کرے گا۔
چیری اسپرنگز اسٹیٹ پارک، پنسلوانیا امریکہ کے مشرقی حصے میں فلکیاتی مشاہدے کے لیے مشہور ترین مقام ہے۔ یہاں ہر سمت کھلا افق اور انتہائی تاریک آسمان موجود ہے، جس کی وجہ سے پرسئیڈ شہابی بارش نہایت واضح دکھائی دیتی ہے۔
بحر اوقیانوس کے کنارے واقع جزیرہ اسیٹیگ آئی لینڈ، میری لینڈ کھلے ساحلوں اور کم روشنی کی وجہ سے شہابی بارش کے لیے بہترین مقام سمجھا جاتا ہے، تاہم اگست میں نمی، سمندری دھند اور مچھروں کی بہتات مشاہدے کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق جو لوگ 12 اگست کو ان مقامات پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ پہلے سے کیمپ سائٹس بک کر لیں کیونکہ پرسئیڈ شہابی بارش کی رات ہر سال کیمپنگ کے شوقین افراد کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ آسمان کا بہتر مشاہدہ کرنے کے لیے آرام دہ کرسی، گرم کپڑے، مچھر بھگانے والی دوا اور منظور شدہ سولر ایکلپس گلاسز ضرور ساتھ رکھیں۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 12 اگست 2026 کا دن اور رات شمالی امریکہ میں آسمان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کئی برسوں میں آنے والا ایک یادگار اور نادر موقع ثابت ہوگا، جب سورج گرہن اور پرسئیڈ شہابی بارش ایک ہی سفر میں دیکھی جا سکے گی۔












