تہران: (پاک ترک نیوز)ایران ایک بار پھر شدید سیاسی اور معاشی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ملک بھر میں پھیلنے والے مظاہروں کے بعد حکومت نے مکمل قومی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا ہے۔
جمعرات کی شام سے ایران میں موبائل اور براڈ بینڈ سروسز مکمل طور پر بند ہیں، جسے مظاہروں کو دبانے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تہران، تبریز، اصفہان، مشهد، کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین نے سڑکیں بند کر رکھی ہیں، سرکاری عمارتوں کے اطراف شدید کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ کئی شہروں میں بازار اور کاروباری مراکز ہڑتال کے باعث بند ہیں۔
جمعرات کی رات آٹھ بجے کے بعد دارالحکومت کے متعدد علاقوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ کئی مرکزی شاہراہیں بند تھیں اور پولیس و مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں آنسو گیس اور گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں۔
مظاہروں کی بنیادی وجہ شدید معاشی بدحالی بتائی جا رہی ہے۔ ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام، خصوصاً مزدور اور نچلے متوسط طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔
اب یہ احتجاج صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے بلکہ نظامِ حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اگرچہ صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو تحمل کی ہدایت کی ہے، تاہم زمینی حقائق بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کر رہے ہیں۔












