لاہور(پاک ترک نیوز )لاہور ہائیکورٹ میں کیمرے اور دیگر آلات سے لیس عینکوں کی فروخت پر پابندی کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے سیکرٹری تجارت سمیت متعلقہ حکام کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے خاتون نادرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے شہرام سائیں ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ مارکیٹ میں بڑی دکانوں اور سپر اسٹورز پر کیمرے لگی عینکیں فروخت کی جا رہی ہیں، ان عینکوں کے ذریعے خفیہ طور پر مختلف نوعیت کی ریکارڈنگ ممکن ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیمرے والی عینکیں سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی فروخت کے لیے کسی متعلقہ حکومتی ادارے سے منظوری بھی نہیں لی گئی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ سکیورٹی خطرہ بننے والی کیمرے والی عینکوں کی فروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے اور ذمہ دار اداروں سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی جائے۔
عدالت نے وفاقی سیکرٹری تجارت، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین بورڈ آف ریونیو اور ممبر کسٹمز کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر متعلقہ حکام کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو جواب جمع کرانے کے لیے 15 اکتوبر تک مہلت دے دی۔












