اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے گھروں کی تعمیر، چھوٹے کاروباروں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی میں بینکوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ قرضوں کی منظوری اور رقوم کی ادائیگی کے درمیان فرق کم کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو مالی سہولتوں تک رسائی دی جائے۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف سے بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران کے وفد نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اقدامات کا مقصد عام شہریوں، کاروباری افراد اور کسانوں کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنا ہے۔شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ قرضوں کی منظوری اور ادائیگی کا طریقہ کار مزید آسان بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔وزیراعظم نے زرعی قرضوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مالی وسائل تک رسائی کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ چھوٹے کسانوں کو ترجیح دی جائے تاکہ وہ جدید زرعی طریقے اپنا کر اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑا بینک وہی ہے جو چھوٹے کسان کا بھی بینک ہو۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 426 ارب روپے مالیت کے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 76 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔مالی سال 2026-27 کے دوران ایک لاکھ 25 ہزار رہائشی یونٹس کی تعمیر اور فراہمی کے لیے 700 ارب روپے کی مالی معاونت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منظور شدہ قرضوں اور جاری کی جانے والی رقوم کے درمیان فرق کم کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تعمیراتی شعبے کے سرمایہ کاروں اور عمارتیں تعمیر کرنے والے اداروں کی قرضوں تک رسائی کے لیے طریقۂ کار پر مشاورت جاری ہے۔بریفنگ کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے میں اب تک تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار 862 کاروباری افراد کو مجموعی طور پر ایک ہزار 137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔جون 2027 تک قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کاروباری افراد کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثناء اللہ جوڈیشل کمیشن کے رکن مقرر
اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر 2026 کے اختتام تک زرعی قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 352 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 34 لاکھ 55 ہزار 313 افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور قرضوں سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔بینکوں کے وفد نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی استحکام اور حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ اور عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، مختلف بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے سربراہان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔












