راولپنڈی ( پاک ترک نیوز) پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اہم مقصد ہے، جبکہ دفاعی معاہدے کے باعث مخالف عناصر کسی بھی کارروائی سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں سعودی عرب میں تعینات ہیں۔ سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستوں کے استعمال کا فیصلہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈین وزیراعظم رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اچانک وجود میں آنے والا اتحاد نہیں، بلکہ خطے میں ابھرنے والے نئے سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ دفاعی قوت فراہم کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے نفاذ کے تمام اثرات دفاعی نوعیت کے ہوں گے اور اس کا مقصد کسی ملک کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا اور مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ممکنہ مخالف عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کسی بھی کارروائی سے پہلے انہیں اس کے نتائج پر کئی بار غور کرنا ہوگا۔












