کراچی : (پاک ترک نیوز)کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی کے بعد ریسکیو آپریشن کا اہم مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم ملبہ ہٹانے اور کولنگ کا عمل بدستور جاری ہے۔
حکام کے مطابق اب تک فائر فائٹر سمیت 26 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 40 سے زائد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 70 سے زائد شہریوں کی گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ابتدائی تکنیکی تجزیے میں 32 لاپتا افراد کے موبائل فونز کی آخری لوکیشن گل پلازہ کے اندر ہی سامنے آئی ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ افراد آگ کے وقت عمارت میں موجود تھے۔
کچھ خاندانوں نے موبائل نمبرز فراہم نہیں کیے، جس کے باعث مکمل ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے مطابق اب تک نکالی گئی لاشوں میں سے 13 کی شناخت ممکن ہو سکی ہے جبکہ باقی کی شناخت ڈی این اے پروفائلنگ کے ذریعے کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پلازہ میں انتہائی آتش گیر سامان موجود تھا، جس کے باعث آگ کی شدت غیر معمولی رہی۔ کمشنر کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے اور آئندہ چند روز میں مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے اور متاثرہ عمارت کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ عوامی ہجوم کو ہٹا کر صرف شکایات کیمپ تک محدود رسائی دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق عمارت شدید طور پر مخدوش ہو چکی ہے، اس کے کئی حصے زمین بوس ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت مکمل گرنے کا خطرہ موجود ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق 1200 سے زائد دکانوں پر مشتمل اس شاپنگ مال کا گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکا ہے جبکہ اوپری منزلیں بھی شدید نقصان کا شکار ہوئیں۔
لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی جانب سے دل دہلا دینے والی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، جن میں کچھ افراد اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بچانے کے لیے دوبارہ عمارت میں داخل ہوئے اور پھر واپس نہ آ سکے۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد 50 سے تجاوز کر سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دے دی گئی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے واقعے کی فرانزک تحقیقات، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے قیام، متاثرہ تاجروں کے نقصانات اور متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تاجر تنظیموں کے مطابق اس سانحے میں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے، جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ کاروباری افراد کے لیے خصوصی ریلیف پیکج متعارف کرایا جائے۔












