راولپنڈی : (پاک ترک نیوز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فضائیہ کا ایک دستہ سعودی عرب پہنچ گیا ہے، جہاں وہ کثیرالملکی فضائی جنگی مشق ’اسپیئرز آف وکٹری 2026‘ میں شرکت کرے گا۔
ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کا یہ دستہ جدید ایف-16 بلاک 52 جنگی طیاروں اور تجربہ کار فضائی و زمینی عملے پر مشتمل ہے، جو سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچ چکا ہے۔
اس مشق میں سعودی عرب کے علاوہ پاکستان، فرانس، اٹلی، یونان، قطر، بحرین، اردن، برطانیہ اور امریکا کی فضائی افواج کے جنگی طیارے اور معاون یونٹس حصہ لے رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ مشق شریک فضائی افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی، عملی اشتراک، مشترکہ فہم اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، خاص طور پر لارج فورس ایمپلائمنٹ، نائٹ کمپوزٹ ایئر آپریشنز، انٹیگریٹڈ آئی ایس آر (انٹیلیجنس، سرویلنس، ریکانسانس) اور جدید الیکٹرانک وارفیئر ماحول میں کارروائیوں کے حوالے سے۔
ترجمان کے مطابق اس کثیرالملکی مشق میں شرکت کے ذریعے پاک فضائیہ نہ صرف دوست ممالک کے ساتھ آپریشنل ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا چاہتی ہے بلکہ ایک جدید اور ٹیکنالوجی سے بھرپور جنگی ماحول میں اپنی تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی جائزہ بھی لے رہی ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے پاکستان سے سعودی عرب تک نان اسٹاپ پرواز کی، جو پی اے ایف کی طویل فاصلے تک آپریشن کرنے اور بیرونِ ملک مؤثر کارروائی کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
مشق کے دوران پاک فضائیہ کے پائلٹس جدید ایویانکس اور بیانڈ وژول رینج صلاحیتوں سے لیس ایف-16 بلاک 52 طیارے اڑاتے ہوئے دیگر ممالک کے جدید جنگی طیاروں کے پائلٹس کے ساتھ مشترکہ اور مقابلانہ فضائی آپریشنز انجام دیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس مشق میں شرکت نہ صرف علاقائی اور عالمی عسکری تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاس ہے بلکہ یہ پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور مشکل ترین آپریشنل ماحول میں عالمی سطح کی فضائی افواج کے شانہ بشانہ مؤثر کارروائی کی ثابت شدہ صلاحیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، معاشی شراکت داری اور مشترکہ اسلامی اقدار پر مبنی ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کے شعبے میں تعاون بھی شامل ہے۔












