غزہ(پاک ترک نیوز )فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامیوں نے زیادہ تر نشستیں جیت لیں، انتخابی حکام کے مطابق یہ ووٹنگ تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار غزہ کی پٹی کے ایک شہر میں بھی ہوئی۔فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ نے کہا کہ انتخابات انتہائی حساس وقت، پیچیدہ چیلنجز اور غیر معمولی حالات میں منعقد ہوئے۔
یہ ووٹنگ 2006 کے بعد غزہ میں کسی بھی قسم کے پہلے انتخابات تھے، جبکہ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے بعد یہ پہلا فلسطینی انتخاب بھی تھا۔
وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں ہونے والی یہ ووٹنگ بڑی حد تک ایک علامتی “پائلٹ” الیکشن تھی، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا ایک لازمی حصہ ہے۔
حماس جو 2007 سے غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے، نے غزہ میں باضابطہ طور پر امیدوار نامزد نہیں کیے اور مغربی کنارے میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، جہاں فتح کی کامیابی متوقع تھی۔
تاہم دیر البلح کی ایک فہرست میں شامل بعض امیدواروں کو مقامی افراد اور تجزیہ کار حماس کے قریب سمجھتے ہیں، جس سے یہ ووٹ اس جماعت کی مقبولیت کا ایک اشارہ بن سکتا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق “دیر البلح ہمیں متحد کرتا ہے” نامی فہرست نے 15 میں سے صرف 2 نشستیں حاصل کیں۔
صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ “نہضت دیر البلح” فہرست نے 6 نشستیں جیت لیں، جبکہ باقی نشستیں دو دیگر مقامی گروپوں “فیوچر آف دیر البلح” اور “پیس اینڈ بلڈنگ” نے حاصل کیں، جو کسی بڑی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں۔











