واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے سخت ترین شرائط پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تہران کا پورا جوہری ڈھانچہ ختم کیا جائے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دوسرے مرحلے کے جوہری مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئے۔ یہ مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔
امریکا میں بڑے یہودی رہنماؤں کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح کر دیا تھا کہ کسی بھی معاہدے میں چند بنیادی نکات شامل ہونا ضروری ہیں۔
ان کے مطابق:ایران کا تمام افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کیا جائے۔ یورینیم افزودگی کی صلاحیت مکمل ختم کی جائے اور اس کا انفراسٹرکچر بھی توڑا جائے جبکہ بیلسٹک میزائل پروگرام کا مسئلہ حل کیا جائے۔ جوہری پروگرام کی سخت اور مؤثر بین الاقوامی نگرانی ہو۔
اُدھر امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات 6 فروری کو عمان میں دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے فضائی حملوں کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی۔
بعد ازاں امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہونی چاہیے۔
تاہم اس مقصد کے حصول کے طریقہ کار پر دونوں میں اختلاف موجود ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران کی تیل برآمدات، خاص طور پر چین کو ہونے والی فروخت، پر مزید معاشی دباؤ بڑھانے پر بھی بات کی۔
دوسری جانب ایران نے ہمیشہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم میزائل پروگرام کو مذاکرات سے جوڑنے سے انکار کرتا ہے۔
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ نہ ہوا تو ٹرمپ اسرائیلی حملوں کی حمایت کر سکتے ہیں، تاہم اس پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کو “بہترین آپشن” قرار دیا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بڑی علاقائی جنگ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔












