نیو یارک ( پاک ترک نیوز) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کیا ۔
اپنے خطاب میں عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ محترمہ صدر، مجھے بولنے کا موقع دینے کا شکریہ۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کو چار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ طالبان خود کو بدلیں گے اور ایک ذمہ دار حکومتی نظام کی شکل اختیار کریں گے، اور اپنے ملک کو امن، خوشحالی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے ایک نئے دور کی طرف لے جائیں گے، جبکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری بھی کریں گے۔
بطور قریبی ہمسایہ ملک، افغانستان میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے باقاعدگی سے طالبان حکام کے ساتھ مکالمے اور روابط کو فروغ دیا۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال ہم نے کابل کے متعدد اعلیٰ سطحی دورے کیے، جن میں انسانی ہمدردی کی امداد کے اقدامات، دوطرفہ تجارت کے مراعاتی مواقع، ویزا نظام میں نرمی، ٹرانزٹ سہولیات اور علاقائی پلیٹ فارمز میں شرکت جیسے اقدامات شامل تھے تاکہ افغانستان کو خطے اور دنیا کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
یہ بات بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ براہِ راست مکالمے کو ممکن بنانے کے لیے عالمی برادری نے بھی ڈی ایچ اے تھری عمل کے دوران طالبان کو ایک موقع دیا تھا، اس امید کے ساتھ کہ وہ تین بنیادی بین الاقوامی مطالبات پورے کریں گے: دہشت گردی کے خلاف اقدامات، انسانی حقوق کا احترام، اور ایک جامع حکومت کا قیام۔
لیکن آج کی گفتگو سے بھی واضح ہے کہ افسوس کے ساتھ طالبان ان تینوں شعبوں میں ناکام رہے ہیں۔
محترمہ صدر، آج افغانستان دہشت گرد تنظیموں اور ان کے حامی گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اس حقیقت کی تصدیق عالمی رپورٹس، اقوام متحدہ کی رپورٹس اور مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں بھی کی گئی ہے۔
اس صورتحال نے پورے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے اور اس کے سنگین اثرات خصوصاً پاکستان جیسے پڑوسی ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی نہ صرف قریبی ممالک بلکہ پورے خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم جیسی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں رکھتی ہیں جہاں سے وہ سرحد پار دراندازی، پرتشدد حملے اور خودکش دھماکے کرتی ہیں۔
طالبان حکومت کے بعض عناصر نے ان گروہوں کی حمایت اور معاونت کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ ہمارے مشرقی پڑوسی کی بیرونی سرپرستی بھی اس میں شامل ہے، جو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کے لیے مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے جو افغانستان کی سرزمین سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور نگرانی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے واقعات میں ہزاروں قیمتی جانیں کھو دی ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ ہی تین خودکش حملوں سمیت 175 سے زائد بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے۔
ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں پنپنے والی دہشت گردی کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔
محترمہ صدر، پاکستان نے ہمیشہ مکالمے کو ترجیح دی ہے۔ طالبان کو ہماری تشویش سے آگاہ کرنے اور انہیں مشورہ دینے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کی گئیں۔ قطر، ترکی اور سعودی عرب جیسے برادر ممالک کی معاونت سے حالیہ ثالثی کی کوششیں بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں۔
طالبان کی جانب سے عملی اقدامات نہ کرنا، واضح ضمانتیں فراہم کرنے سے انکار کرنا، اور ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کی کھل کر مذمت نہ کرنا ان کی شمولیت اور حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ دہشت گرد گروہ مشترکہ تربیت، غیر قانونی ہتھیاروں کے حصول اور حملوں کی منصوبہ بندی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
پاکستان دہشت گردی کے ان حملوں پر خاموش نہیں بیٹھ سکتا جو افغان سرزمین سے ہمارے سرحدی چوکیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن میں عبادت گاہیں اور اسکول بھی شامل ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران ہم نے جدید فوجی سازوسامان کی بڑی مقدار بھی ضبط کی ہے جو افغانستان میں غیر ملکی افواج کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں میں شامل تھا۔
زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد، 21 اور 22 فروری کو پاکستان نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی، اس کے اتحادیوں اور داعش خراسان کے سات دہشت گرد ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔
لیکن 26 فروری کو طالبان نے متعدد سرحدی مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کر کے پاکستان کے خلاف دشمنی کا اعلان کیا۔
اپنے دفاع کے حق کے تحت پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کی اور دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا۔ ہماری کارروائیاں متناسب تھیں اور مکمل منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ صرف دہشت گرد کیمپوں اور ان کے معاون مراکز کے خلاف کی گئیں۔
پاکستان اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری دفاعی قدم اٹھائے گا۔ دہشت گرد گروہوں کی صلاحیتوں اور ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی۔
محترمہ صدر، افغانستان کے عام اور کمزور لوگ طالبان کی سخت پابندیوں اور غلط ترجیحات کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پابندیاں، ناکارہ بینکاری نظام، غیر ملکی امداد میں کمی، غربت، دہشت گردی، منشیات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں افغانستان کے سماجی و معاشی حالات پر بھاری بوجھ بن چکی ہیں۔
افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں اسلامی روایات اور مسلم معاشروں کی اقدار کے بھی خلاف ہیں۔ پاکستان انسانی حقوق اور خواتین و بچیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر عالمی برادری کی تشویش میں شریک ہے۔
محترمہ صدر، چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، حالانکہ وسائل محدود تھے اور بین الاقوامی حمایت ناکافی تھی۔ غیر دستاویزی افغان باشندوں کی بڑی تعداد ہمارے لیے سکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے، اور یہ قیام غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ہو سکتا۔
اگرچہ ہم سہولتیں فراہم کرتے رہیں گے، لیکن عالمی برادری کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی اور اس بوجھ کو بانٹنا ہوگا۔
پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون کا حامی رہا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے زیرِ قیادت ڈی ایچ اے عمل کے اگلے مراحل اور اس کے جامع منصوبے کے منتظر ہیں جو افغانستان کے کثیر الجہتی مسائل کے حل کے لیے ایک واضح اور حقیقت پسندانہ روڈ میپ فراہم کرے۔
تاہم اگر افغان طالبان کی طرف سے تعاون نہ ہوا تو ہمیں خدشہ ہے کہ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکے گی۔
بطور قریبی ہمسایہ ملک، جس کے افغانستان کے ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ روابط ہیں، پاکستان سے زیادہ کوئی ملک افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں نہیں۔ اور کوئی ملک افغانستان کی دہائیوں پر محیط جنگ اور عدم استحکام کے اثرات سے پاکستان سے زیادہ متاثر بھی نہیں ہوا۔
ہم ایک پرامن، مستحکم، باہم مربوط اور خوشحال افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں جو اپنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن میں ہو۔
پاکستان کا افغانستان سے مطالبہ ہمیشہ واضح رہا ہے: دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی اقدامات۔ بدقسمتی سے یہ مطالبہ آج تک پورا نہیں ہوا۔
طالبان کو سب سے پہلے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، اور دہشت گرد گروہوں کو جگہ دینے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔












