نیویارک (پاک ترک نیوز )تجارتی جوہری فیوژن توانائی حقیقت کے ایک قدم اور قریب پہنچ گئی ہے۔ بل گیٹس کی حمایت یافتہ کمپنی کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز نے جاپانی کمپنی فوجیکورا کے ساتھ انتہائی اہم معاہدہ کرلیا ہے۔
معاہدے کے تحت کمپنی 10 ہزار کلومیٹر سے زائد یعنی تقریباً 6 ہزار 215 میل طویل انتہائی درجہ حرارت برداشت کرنے والی سپر کنڈکٹنگ ٹیپ خریدے گی۔ یہ ٹیپ مستقبل میں بجلی پیدا کرنے والے تجارتی جوہری فیوژن مراکز کی تعمیر میں استعمال ہوگی۔
جاپانی کمپنی فوجیکورا اس مقصد کے لیے جاپان میں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ہے، جبکہ ابتدائی ٹیپ امریکی ریاست ورجینیا کے چیسٹر فیلڈ کاؤنٹی پہنچائی جائے گی، جہاں کمپنی اپنا پہلا بڑے پیمانے کا فیوژن بجلی گھر تعمیر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ منصوبہ ایک ایسے تجرباتی ری ایکٹر کی تیاری سے جڑا ہے جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ جوہری فیوژن سے خرچ ہونے والی توانائی سے زیادہ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
فیوژن ری ایکٹر میں ٹوکامک نامی حلقہ نما چیمبر استعمال ہوتا ہے، جہاں انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ کے ذریعے ایٹمی ذرات کو آپس میں ملایا جاتا ہے۔
لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ عمل ایسے درجہ حرارت پر ہوتا ہے جو 10 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔۔۔ یعنی سورج کے مرکز سے بھی زیادہ گرم ہے
ایسی حالت میں کوئی بھی مادی دیوار اس پلازما کو برداشت نہیں کرسکتی، اس لیے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان استعمال کرکے گرم پلازما کو دیواروں سے دور معلق رکھا جاتا ہے۔
نئی سپر کنڈکٹنگ ٹیکنالوجی کا مقصد زیادہ طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، تاکہ مستقبل کے فیوژن بجلی گھروں کو پہلے کے تجرباتی منصوبوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور نسبتاً کم حجم میں تعمیر کیا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوگئی تو جوہری فیوژن دنیا کو تقریباً لامحدود اور کم کاربن توانائی فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔





